ورچوئل اسیٹ ریگولیٹری اتھارٹی کے چیف اور گورنر اسٹیٹ بینک کی ڈیجیٹل اثاثوں کو اپنانے پر گفتگو
پاکستان ورچوئل اسیٹ ریگولیٹری اتھارٹی (پی وی اے آر اے) کے چیئرمین بلال بن ثاقب اور گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے جمعرات کو ڈیجیٹل اثاثوں سے متعلق مختلف امور پر بات چیت کی۔
پاکستان ورچوئل اسیٹ ریگولیٹری اتھارٹی نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر لکھا کہ چیئرمین بلال بن ثاقب اور گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد کے درمیان ایک تعمیری گفتگو ہوئی۔ اس بات چیت کا محور ڈیجیٹل اثاثوں کو اپنانا، مرکزی بینک کی ڈیجیٹل کرنسی کے نفاذ اور پاکستان کے ڈیجیٹل اثاثوں کے لیے ریگولیٹری روڈ میپ پر تھا۔
یہ پیشرفت اس کے چند روز بعد سامنے آئی ہے جب وزارت خزانہ نے بائننس کے ساتھ مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے جو دنیا کی معروف بلاک چین اور ڈیجیٹل اثاثہ ٹیکنالوجی کمپنیوں میں سے ایک ہے، یہ اقدام ابھرتی ہوئی مالی ٹیکنالوجیز کو استعمال کرتے ہوئے سرمایہ کاری کے بازار کو مضبوط بنانے اور عالمی سرمایہ کاروں تک رسائی بڑھانے کی سمت میں ایک قدم ہے۔
یہ ایم او یو وزارت خزانہ میں وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور بائننس کے سی ای او رچرڈ ٹینگ نے پاکستان کرپٹو کونسل کے مشیر چانگ پینگ ژاؤ کی موجودگی میں دستخط کیا۔
یہ ایم او یو پاکستان کے حقیقی اور خودمختار اثاثوں کی ٹوکنائزیشن اور بلاک چین پر مبنی تقسیم میں ممکنہ تعاون کے لیے ایک فریم ورک قائم کرتا ہے، جس میں حکومتی بانڈز، ٹریژری بلز، کموڈیٹی ریزروز اور دیگر وفاقی ملکیت والے اثاثے شامل ہیں۔ قابل اطلاق قوانین، پالیسیوں اور ریگولیٹری منظوریوں کے تابع، اس اقدام میں 2 ارب ڈالر تک کے اثاثے شامل ہو سکتے ہیں تاکہ لیکویڈٹی، شفافیت اور بین الاقوامی مارکیٹ تک رسائی کو بہتر بنایا جا سکے۔

























Comments
Comments are closed.