معیشت مشکلات کے دور سے نکل چکی ہے، وزیراعظم نے نیشنل ریگولیٹری ریفارمز کا اجرا کردیا
- آج ہمارے معاشی اشاریے شاندار ہیں اور آئی ایم ایف نے بھی 1.2 بلین ڈالر کی قسط کی منظوری دے دی ہے، شہباز شریف
وزیر اعظم شہباز شریف نے ہفتے کے روز نیشنل ریگولیٹری ریفارمز کا اجرا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اب معاشی مشکلات کے دور سے نکل چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اب معاشی ترقی پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے اور زراعت، آئی ٹی اور مائنز اینڈ منرلز جیسے شعبوں میں سرمایہ کاری لانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔
وزیر اعظم نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں نوجوانوں کی بڑی آبادی موجود ہے اور ہم انہیں ووکیشنل ٹریننگ اور انٹرنیشنل سرٹیفکیشن کے وسیع مواقع فراہم کر رہے ہیں تاکہ وہ نہ صرف پاکستان میں بلکہ بیرونِ ملک بھی باعزت اور پیداواری روزگار حاصل کر سکیں۔
انہوں نے مارچ 2024 کی سنگین معاشی صورتحال کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ آج ہمارے معاشی اشاریے شاندار ہیں اور آئی ایم ایف نے بھی 1.2 بلین ڈالر کی قسط کی منظوری دے دی ہے۔
اس ریگولیٹری فریم ورک کو ایک بڑی جست قرار دیتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ اس سے بزنس کمیونٹی، صنعتکاروں، زراعت اور یورپ، فار ایسٹ اور مڈل ایسٹ سے آنے والی فارن ڈائریکٹ انویسٹمنٹ کو سہولت ملے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ نظام وقت اور وسائل کے ضیاع کا بھی سدباب کرے گا جو بدعنوانی اور اقربا پروری کا باعث بنتا ہے۔ وزیر اعظم نے بتایا کہ انہوں نے بورڈ آف انویسٹمنٹ کو آسان کاروبار، ٹیکنیکل یونٹ کی قیادت سونپی ہے، جو ایک مخصوص ادارہ ہے اور مسلسل ریگولیٹری ماڈرنائزیشن اور پاکستان کے کاروباری ماحول کو بین الاقوامی بہترین طریقہ کار سے ہم آہنگ کرنے کی ذمہ داری سنبھالے گا۔ انہوں نے زور دیا کہ ان تاریخی اصلاحات کو تیزی سے عملی جامہ پہنایا جائے تاکہ عوام پاکستان میں حقیقی تبدیلی کو محسوس کر سکیں، برطانیہ کی وزیرِ مملکت برائے انٹرنیشنل ڈیولپمنٹ، بیرونس جینی چیپ مین نے اپنے خطاب میں پاکستان کی انٹرپرینیورشپ صلاحیت، قدرتی وسائل اور عالمی تجارت میں اس کی اسٹریٹیجک حیثیت کو اجاگر کیا۔
انہوں نے ان اصلاحات کو ایک مثبت کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ برطانیہ اور پاکستان کے مشترکہ عزائم کی عکاس ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ دونوں ممالک کے درمیان سالانہ تجارت کا حجم 5.5 بلین پاؤنڈ ہے اور ایک نئے ٹریڈ ڈائیلاگ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ برطانیہ پاکستان کی 1.6 ملین افراد پر مشتمل برطانوی ڈایسپورا کو متحرک کرنے کی کوششوں کی حمایت کر رہا ہے تاکہ پرائیویٹ کیپیٹل کو بروئے کار لایا جا سکے اور تجارت و سرمایہ کاری میں اضافہ ہو۔
اس موقع پر وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی برائے صنعت، ہارون اختر نے کہا کہ یہ دن محض ایک پالیسی سنگِ میل نہیں بلکہ پاکستان کے ریگولیٹری ریاست سے ڈیولپمنٹل ریاست کی جانب سفر میں ایک اہم موڑ کی حیثیت رکھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ریگولیٹری اصلاحات ایک وسیع تر ایجنڈے کا حصہ ہیں جو تین ستونوں پر مبنی ہے: ٹیرف ریشنلائزیشن، ریگولیٹری ماڈرنائزیشن اور ایکسپورٹ پر مبنی صنعتی بحالی پر مشتمل ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ نئی نیشنل ٹیرف پالیسی کے تحت حکومت پیش بینی اور مسابقت کی جانب بڑھ رہی ہے جبکہ من مانے ڈیوٹیز کو مرحلہ وار ختم کیا جا رہا ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025

























Comments
Comments are closed.