مانیٹری پالیسی کا اجلاس پیر کو طلب، صنعتکاروں کا شرح سود میں کمی کا مطالبہ
- اسٹیٹ بینک نے ستمبر سے اپنی پالیسی ریٹ 11 فیصد پر برقرار رکھی ہوئی ہے
رواں سال کی آخری مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) کا اجلاس اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کی جانب سے پیر کو متوقع ہے۔ صنعت کاروں نے کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے شرح سود میں کمی کا مطالبہ کیا ہے۔
سی ای او انٹرلوپ لمیٹڈ، مصدق ذوالقرنین، جو پاکستان کی بڑی ٹیکسٹائل کمپنیوں میں سے ایک ہیں، نے جمعہ کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر کہا کہ مہنگائی قابو میں ہے، روپے کی قدر مستحکم ہے اور زرمبادلہ ذخائر ہدف سے بہتر ہیں، ایسے میں ایس بی پی کے لیے پالیسی کا رخ بدلنا ناگزیر ہے۔
مصدق ذوالقرنین نے کم از کم 100 بیسز پوائنٹس کی کمی کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کا معاشی انجن رکا ہوا ہے اور صنعت شدید دباؤ کا شکار ہے۔ شرح سود میں بروقت کمی کاروباری سرگرمیوں کو متحرک کرے گی اور حکومت کے مالیاتی بوجھ کو بھی نمایاں طور پر کم کرے گی۔ موجودہ وقت فیصلہ کن مانیٹری سپورٹ کا متقاضی ہے۔
ایک اور نمایاں صنعت کار اور سابق نگراں وفاقی وزیرِ تجارت گوہر اعجاز نے بھی اسی نوعیت کے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے ایکس پر لکھا کہ گزشتہ 36 ماہ میں معیشت کو مستحکم کرنے کی کوشش کی گئی لیکن مجموعی طور پر صرف 2 فیصد سے بھی کم ترقی حاصل ہوئی۔
گوہر اعجاز نے کہا کہ اسی دوران روپے کی قدر 160 سے 280 روپے فی ڈالر تک گر گئی اور برآمدات تقریباً 30 ارب ڈالر پر جمود کا شکار ہیں، جو واضح کرتا ہے کہ صرف کرنسی کی قدر میں کمی سے برآمدات میں مسابقت پیدا نہیں ہو سکتی۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان میں شرح سود خطے کی دیگر معیشتوں، بشمول چین اور بھارت، کے مقابلے میں تقریباً دوگنی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی مانیٹری پالیسی کمیٹی نے سال کے آغاز سے اب تک پالیسی ریٹ 11 فیصد پر برقرار رکھا اور گزشتہ 12 ماہ میں صرف ایک فیصد کمی کی گئی جس کے نتیجے میں حقیقی شرحِ سود اوسطاً 6 فیصد سے زیادہ رہی۔ اس کے اثرات صنعتی مسابقت کو کمزور، معاشی نمو کو دبا اور برآمدات کی توسیع کو محدود رکھتے ہیں، جس سے معیشت ”وینٹی لیٹر“ پر ہے۔
گوہر اعجاز نے آئندہ چھ ماہ میں شرح سود کو تقریباً 6 فیصد تک کم کرنے اور حقیقی شرح سود کو خطے کے معیار کے مطابق 1 فیصد تک لانے کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ اس سے حکومت کے سالانہ قرض کی ادائیگی کا بوجھ بھی 3 کھرب روپے تک کم ہو جائے گا۔
اسٹیٹ بینک نے ستمبر سے اپنی پالیسی ریٹ 11 فیصد پر برقرار رکھی ہے جبکہ جون 2024 سے مئی 2025 کے درمیان اسے 1,100 بیسس پوائنٹس کم کیا گیا تھاکیونکہ مہنگائی 2023 میں تقریباً 40 فیصد کے ہائی لیول سے تیزی سے کم ہوئی تھی۔
تاہم، مہنگائی میں کئی ماہ کی کمی کے بعد تیزی آنا شروع ہو گئی ہے جس کی وجہ خوراک اور نقل و حمل کے اخراجات اور بنیادی اثرات کا کم ہونا ہے۔ نومبر میں مجموعی مہنگائی کی شرح 6.1 فیصد رہی جو اکتوبر کے 6.2 فیصد کے مقابلے میں معمولی کمی ہے لیکن یہ ایس بی پی کے 5 سے7 فیصد کے ہدف سے اوپر رہی۔
آئی ایم ایف نے جو جمعرات کو اپنا دوسرا جائزہ جاری کیا کہا کہ مانیٹری پالیسی کو توقعات کو برقرار رکھنے کے لیے مناسب حد تک سخت اور ڈیٹا پر منحصر رہنا چاہیے اور نوٹ کیا کہ ایس بی پی نے مستقبل کو مدنظر رکھتے ہوئے حقیقی شرح سود کو مثبت رکھا ہے۔
آئی ایم ایف کے مطابق سخت پالیسی نے مہنگائی کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے اور اسے برقرار رکھنا چاہیے تاکہ قیمتوں کا استحکام یقینی بنایا جا سکے اور بیرونی زرمبادلہ ذخائر کی بحالی میں مدد ملے۔

























Comments
Comments are closed.