ناقص پورٹ ٹرمینل خدمات، تاجروں پر ماہانہ 750 ملین ڈالر کا اضافی بوجھ
- ایف پی سی سی آئی کے نمائندوں کا کارگو کی غیر ضروری فزیکل جانچ کو کم کرنے کیلئے بہتر ٹریڈر پروفائلنگ کا مطالبہ
تاجروں کو غیر تسلی بخش پورٹ ٹرمینل خدمات کے باعث ہر ماہ تقریباً 750 ملین ڈالر کے اضافی اخراجات برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔ یہ مسئلہ مشترکہ تجارتی سہولت کمیٹی کے پہلے اجلاس میں اٹھایا گیا، جو جمعہ کو کسٹم ہاؤس کراچی میں منعقد ہوا۔
اجلاس کی صدارت کلکٹر اپریزرمنٹ (جنوب) واجد علی نے کی، جس میں کسٹمز حکام، تاجر برادری، کاروباری چیمبرز اور پورٹ ٹرمینلز کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس کا مقصد تجارت میں رکاوٹ بننے والے اہم مسائل کا جائزہ لینا تھا۔
ایف پی سی سی آئی کے نائب صدر آصف سخی اور سابق نائب صدر محمد ارشد جمال نے تاجروں کی جانب سے مختلف اہم مسائل پیش کیے۔ ارشد جمال نے بتایا کہ ناقص پورٹ ٹرمینل کارکردگی کی وجہ سے تاجروں پر 750 ملین ڈالر ماہانہ اضافی بوجھ پڑ رہا ہے۔
ایف پی سی سی آئی کے نمائندوں نے کارگو کی غیر ضروری فزیکل جانچ کو کم کرنے کے لیے بہتر ٹریڈر پروفائلنگ کا مطالبہ کیا، جس میں کارکردگی کی بنیاد پر تاجر کا اندراج شامل ہو۔ انہوں نے فزیکل معائنہ کے بجائے جہاں ممکن ہو اسکیننگ کو لازمی قرار دینے کی بھی سفارش کی، جس سے کلیئرنس کا وقت کم ہوگا۔
تاجر برادری نے معائنہ اور اسیسمنٹ کے لیے درکار اہلکاروں کی شدید کمی پر بھی تشویش ظاہر کی، جس کے باعث کلیئرنس میں تاخیر پیدا ہو رہی ہے۔ انہوں نے اہلکاروں کی تعداد بڑھانے اور ایک خصوصی ٹاسک فورس قائم کرنے کی تجویز دی تاکہ معائنہ کے مرحلے کو بہتر بنایا جا سکے۔
سروس سیکٹر کے نمائندوں، جن میں ایسوسی ایشن آف پاکستان کسٹمز ایجنٹس کے چیئرمین ارشد خورشید، کراچی کسٹمز ایجنٹس ایسوسی ایشن کے صدر یحییٰ محمد اور جنرل سیکریٹری شیخ وقاص انجم شامل تھے، نے بھی پورٹ ٹرمینلز کی ناقص کارکردگی پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی انٹرنیشنل کنٹینر ٹرمینل اور سائوتھ ایشیا پاکستان ٹرمینلز اپنی استعداد سے زیادہ پر کام کر رہے ہیں اور ان کے پاس جگہ، مشینری، تربیت یافتہ افرادی قوت اور تکنیکی وسائل کی شدید کمی ہے۔
اجلاس میں کراچی چیمبر آف کامرس،ایسوسی ایشن آف پاکستان کسٹمز ایجنٹس، کے سی اے اے اور پورٹ ٹرمینلز کے نمائندوں کے ساتھ تفصیلی مشاورت کے بعد، واجد علی نے کہا کہ حکومت تجارت اور صنعت کی سہولت کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ مشترکہ تجارتی سہولت کمیٹی اسی مقصد کے لیے قائم کی گئی ہے اور تمام اسٹیک ہولڈرز کو بین الاقوامی معیار کے مطابق ایسی پالیسیاں بنانے میں تعاون کرنا چاہیے جو ڈویل ٹائم اور کاروباری لاگت کو کم کرنے میں مدد دیں۔
چیف کلیکٹر نے ایف پی سی سی آئی کو ہدایت کی کہ وہ اپنے مجوزہ ایس او پیز اور پالیسی فریم ورک تیار کر کے آئندہ اجلاس میں پیش کرے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ کسٹمز حکام تجارت سے متعلق مسائل کے حل کے لیے مخلصانہ طور پر کام کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے دروازے کھلے ہیں اور میری ٹیم پاکستان میں جائز کاروباری سرگرمیوں میں سہولت فراہم کرنے کے لیے پوری طرح پُرعزم ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025






















Comments
Comments are closed.