اسلام آباد حملہ خطرے کی گھنٹی، پاکستان حالتِ جنگ میں ہے، وزیرِ دفاع
- خودکش حملہ آور پیدل عدالت کی عمارت میں داخل ہونے کی کوشش کر رہا تھا، وزیرِ داخلہ محسن نقوی
وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے منگل کے روز کہا ہے کہ ملک ’’حالتِ جنگ‘‘ میں ہے، اور اسلام آباد کی ضلعی عدالت میں خودکش حملے کے تناظر میں وسیع تر خطرات کو اجاگر کیا ہے۔
انہوں نے ایکس (سابق ٹوئٹر) پر لکھا ہے کہ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ پاک فوج یہ جنگ صرف پاک افغان سرحدی علاقوں یا بلوچستان کے دور دراز مقامات پر لڑ رہی ہے، اسلام آباد کی ضلعی عدالت میں آج کا خودکش حملہ ان کے لیے ایک انتباہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا ہے کہ ایسے ماحول میں کابل کے حکمرانوں کے ساتھ مذاکرات میں کامیابی کی زیادہ امید رکھنا بے سود ہوگا۔
یہ بیان وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ہونے والے مہلک خودکش دھماکے کے بعد سامنے آیا، جس میں 12 افراد جاں بحق اور 27 زخمی ہوئے۔
پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) اسپتال میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے بتایا کہ خودکش حملہ آور پیدل عدالت کی عمارت میں داخل ہونے کی کوشش کر رہا تھا، لیکن تقریباً 10 سے 15 منٹ تک انتظار کرنے کے بعد ایک پولیس گاڑی کے قریب خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔
وزیرِ داخلہ نے کہا ہے کہ ہم اس واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کر رہے ہیں۔ یہ کوئی عام دھماکہ نہیں تھا، یہ اسلام آباد کے اندر ہوا ہے۔
یہ پیش رفت ایک روز بعد سامنے آئی جب بھارت کے حمایت یافتہ دہشت گردوں نے جنوبی وزیرستان کے علاقے وانا میں کیڈٹ کالج پر حملہ کیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق حملہ آوروں نے کالج کی حدود میں داخل ہونے کی کوشش کی۔ انہوں نے بارود سے بھری گاڑی مرکزی دروازے سے ٹکرا دی، جس سے دروازہ منہدم ہو گیا اور قریبی عمارتوں کو نقصان پہنچا۔
فوج کے مطابق کلیئرنس آپریشن جاری ہے تاکہ باقی حملہ آوروں کو ختم کیا جا سکے۔

























Comments
Comments are closed.