کراچی اور لاہور چیمبرز کا معاشی بحالی کے لیے مشترکہ لائحہ عمل پر اتفاق
- ایل سی سی آئی کی کے سی سی آئی وفد کو لاہور کے دورے کی دعوت دی، مضبوط رابطے کی ضرورت پر زور
پاکستان کی معاشی بحالی کے لیے تعاون بڑھانے کی غرض سے کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (کے سی سی آئی) اور لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایل سی سی آئی) نے باہمی اشتراک کو مضبوط بنانے پر اتفاق کیا ہے۔
ہفتے کے روز کراچی چیمبر میں ہونے والی ملاقات میں صدر کے سی سی آئی ریحان حنیف اور صدر ایل سی سی آئی فہیم الرحمن سیگول نے کہا کہ پاکستان میں بے پناہ صلاحیتیں موجود ہیں، تاہم ناقص پالیسیوں اور نجی شعبے کی عدم توجہی سے معاشی بحران سنگین ہو رہا ہے۔
فہیم سیگول نے کہا کہ ملک کے پاس قدرتی اور افرادی وسائل کی بہتات ہے لیکن حکومتی ناقص انتظام نے مسائل کو بڑھا دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کراچی اور لاہور کے کاروباری طبقے کو پالیسی سازی میں اپنا کردار یقینی بنانا چاہیے ، تاکہ موثر ٹیکس وصولی اور پائیدار ترقی ممکن ہو۔
ایل سی سی آئی کے صدر نے کراچی چیمبر کے عہدیداروں کو لاہور کے دورے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ باہمی رابطے سے دونوں چیمبرز کے درمیان تاریخی تعاون کی راہ ہموار ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ متحدہ آواز ہی کاروباری برادری کے مسائل حل کر سکتی ہے۔
بزنس مین گروپ کے نائب چیئرمین انجم نثار نے کہا کہ کراچی اور لاہور چیمبرز کی مشترکہ پالیسی حکومت کو سنجیدگی سے مسائل حل کرنے پر مجبور کرے گی ۔
انہوں نے مزید کہاکہ یہ دونوں ادارے ملک کی 90 فیصد سے زائد معاشی سرگرمیوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ انہوں نے پانی، گیس اور بجلی کے بحران کے فوری حل اور سرمایہ کاری دوست پالیسیوں کی ضرورت پر زور دیا۔
نائب چیئرمین جاوید بلوانی نے توانائی کے کم استعمال کو صنعتی سست روی کی علامت قرار دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ پیداوار گھٹنے کے باوجود معاشی بحالی کی بات کیسے کی جا سکتی ہے؟
صدر ریحان حنیف نے زور دیا کہ کراچی اور لاہور کے چیمبرز کو ایک پلیٹ فارم سے اپنی آواز بلند کرنی چاہیے ،تاکہ پالیسی ساز کاروباری برادری کی تجاویز پر عملدرآمد یقینی بنا سکیں۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025






















Comments
Comments are closed.