اگر حکومت کا نیا معاشی روڈ میپ جس میں پیش رفت رپورٹس اور مجوزہ ساختی اصلاحات شامل ہیں ایک بات ثابت کرتا ہے تو وہ یہ کہ حکومتی عزم کی کمی ہرگز نہیں ہے۔
وزارتِ خزانہ نے بلاشبہ تمام روایتی تقاضے پورے کیے ہیں اور ایک وسیع اصلاحاتی سفر کا خاکہ پیش کیا ہے لیکن ملک کو اب بھی جس چیز کی کمی ہے وہ ہم آہنگی ہے جو کسی سفر کو ایک منظم تحریک میں بدل دیتی ہے۔
واضح ترتیب، ٹھوس ٹائم لائنز، ذمہ دار اسٹیک ہولڈرز/اداروں اور قابلِ پیمائش سنگِ میل کے بغیر یہ منصوبہ صرف خواہشات کی فہرست بن کر رہ جاتا ہے، ایک ایسی فہرست جس کے دوبارہ اسی اعلاناتی چکر اور سست روی میں بدل جانے کا خطرہ ہے جس نے عوامی صبر کو پہلے ہی تھکا دیا ہے۔
معاشی ٹیم کا کہنا ہے کہ سمت طے کردی گئی ہے، اصلاحاتی شعبے واضح طور پر متعین ہیں اور بین الاقوامی سطح پر توثیق بھی حاصل ہوگئی ہے لیکن ملک یہ جملے پہلے بھی سن چکا ہے، ہر حکومت نئے اہداف، استحکام کے پُراعتماد دعوؤں اور یقین دہانیوں کے ساتھ آتی ہے کہ اس مرتبہ نظام نتائج دے گا، یہ سلسلہ اس لیے دہرایا جاتا ہے کہ مسئلہ منصوبوں کی کمی نہیں بلکہ عملدرآمد کی ناکامی ہے۔ اصلاحات تیار کرنا آسان ہے لیکن وزارتوں، محکموں اور صوبوں میں نظم و ضبط نافذ کرنا آسان نہیں۔
اصلاحاتی ایجنڈا ایک جامع فہرست کی طرح دکھائی دیتا ہے، نجکاری، ڈیجیٹائزیشن، توانائی شعبے کی تشکیلِ نو، ٹیکسیشن، پنشن اصلاحات، رائٹ سائزنگ اور قرضوں کا انتظام۔ ہر شعبہ اہم ہے، ہر ایک تاخیر کا شکار ہے اور ہر ایک گزشتہ ایک دہائی سے ہر بڑے پالیسی ڈاکیومنٹ کا حصہ رہا ہے لیکن جو چیز اب بھی غائب ہے وہ ہے عملدرآمد کی ترتیب۔ کیا پہلے ہونا چاہیے؟ کون سے مراحل ایک ساتھ چل سکتے ہیں؟ اور کیا صرف اس وقت ممکن ہے جب کوئی دوسرا قدم مکمل ہو جائے؟ کوئی بھی سنجیدہ اصلاحاتی پروگرام درست ترتیب، نگرانی اور عوامی جانچ کے بغیر نہیں چل سکتا۔ پاکستان کو بھی پاورپوائنٹ پریزنٹیشنز اور پریس کانفرنسز کے ذریعے اصلاحات کے دھوکے سے آگے بڑھنا ہوگا۔
نجکاری کو لیجیے، جسے ایک بڑی کامیابی کے طور پر پیش کیا جارہا ہے، حکومت کا ہدف ہے کہ سال کے اختتام تک پی آئی اے کی فروخت مکمل کی جائے اور اس کے بعد بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کی طرف بڑھا جائے۔ لیکن نجکاری صرف اثاثوں کی فروخت کا نام نہیں، یہ تنظیمی ڈھانچے کی ازسرنو ترتیب، واجبات کے انتظام اور ریگولیٹری تیاری سے بھی متعلق ہے۔ یہ وہ تکنیکی مراحل ہیں جن کے لیے ٹائم لائنز، ہم آہنگی اور شفافیت ضروری ہیں۔ عزم کا اعلان کرنا سب سے آسان حصہ ہے لیکن جب تک عملدرآمد پر عوامی سطح پر واضح معلومات سامنے نہیں آئیں گی، اعتماد پیدا نہیں ہوگا۔
توانائی شعبے کی اصلاحات کی صورتحال بھی کچھ مختلف نہیں۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ ایک سال میں سرکلر ڈیبٹ 700 ارب روپے کم کیا گیا ہے اور آئندہ چھ ماہ میں اسے مکمل طور پر ختم کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے، اگر یہ اعدادوشمار درست بھی ہوں، تب بھی پائیداری کیلئے محض اکاؤنٹنگ حربے کافی نہیں، اس کے لیے ادارہ جاتی اصلاحات ضروری ہیں، نہ تو سہ ماہی اہداف کی کوئی تفصیل جاری کی گئی ہے، نہ یہ واضح ہے کہ بجلی تقسیم میں نقصانات مستقل طور پر کس طرح کم ہوں گے اور نہ ہی یہ بتایا گیا ہے کہ اہداف پورے نہ ہونے کی صورت میں جواب دہی کا طریقہ کیا ہوگا۔ شعبہ بدستور ساختی کمزوریوں کا شکار ہے اور عوام جو نااہلی کی قیمت مہنگے ٹیرف کی صورت میں ادا کر رہے ہیں، کسی فوری ریلیف کی امید نہیں رکھ سکتے۔
ڈیجیٹائزیشن کا منصوبہ جو حکومت کی نمایاں اصلاحات میں شمار ہوتا ہے، مؤثر کارکردگی، شفافیت اور بہتر ٹیکس کمپلائنز کا وعدہ کرتا ہے۔ نیشنل ڈیٹا ایکسچینج لیئر کے آغاز اور جون 2026 تک تمام سرکاری ادائیگیاں آن لائن منتقل کرنے کا ہدف یقیناً ایک مثبت قدم ہے۔ مگر اداروں کے درمیان انضمام اور ڈیٹا کے معیار کی تصدیق کے بغیر یہ نظام انہی بیوروکریٹک رکاوٹوں کو الیکٹرانک صورت میں دہراسکتا ہے۔ بالآخر ٹیکنالوجی خود اصلاح نہیں لاتی، وہ صرف اسی ادارہ جاتی نظم و ضبط کو بڑھا دیتی ہے جو پہلے سے موجود ہو۔
وسیع تر مالیاتی تصویر بھی کچھ مختلف نہیں۔ ریکارڈ ترسیلات اور قرضوں کی واپسی نے اگرچہ وقتی ریلیف فراہم کیا، لیکن یہ اصلاحات نہیں، یہ عارضی عوامل کے نتائج ہیں جو معمولی سی بدانتظامی پر فوراً الٹ بھی سکتے ہیں۔ وزارتِ خزانہ کے اپنے اعدادوشمار ظاہر کرتے ہیں کہ آمدن کا بڑا حصہ سود کی ادائیگیوں میں کھپ جاتا ہے۔ جب تک قرضوں میں کمی، برآمدات میں اضافہ اور ٹیکس انتظامیہ کی اصلاح کے لیے واضح ٹائم لائنز طے نہیں کی جاتیں، مالیاتی استحکام خواہش ہی رہے گا، رجحان نہیں۔
یقیناً اسلام آباد میں سبھی جانتے ہیں کہ اصلاحات کو اب مزید کسی ایسے ’ایونٹ‘ تک محدود نہیں رہنا چاہیے جو آئی ایم ایف کے جائزے سے شروع ہو اور ایک پریس کانفرنس پر ختم ہوجائے۔ اصلاحات کو ایک ایسے مسلسل عمل میں بدلنا ہوگا جو ڈیڈ لائنز، بینچ مارکس اور عوامی رپورٹنگ کے ذریعے متعین ہو۔ حکومت اس بات کی مستحق ہے کہ اسے درست مسائل کی نشاندہی اور صحیح شعبوں کے انتخاب پر سراہا جائے، اس میں کوئی شک نہیں۔ لیکن پاکستان کا اصل چیلنج ان اعترافات کو قابلِ پیمائش نتائج میں تبدیل کرنا ہے۔
ملک کو کسی نئے روڈ میپ کی ضرورت نہیں، اسے ایک مؤثر سمت درکار ہے، واضح راستہ، طے شدہ زمانی حدود اور اس راستے پر قائم رہنے کی نظم و ضبط۔ جب تک عملدرآمد کو ساکھ کا بنیادی معیار نہیں بنایا جاتا، اصلاحات محض وعدے ہی رہیں گی اور بحالی مسلسل مؤخر ہوتی رہے گی۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025

























Comments
Comments are closed.