BR100 Increased By (0.06%)
BR30 Decreased By (-0.14%)
KSE100 Increased By (0.11%)
KSE30 Increased By (0.15%)
BAFL 57.92 Decreased By ▼ -0.05 (-0.09%)
BIPL 25.49 Increased By ▲ 0.02 (0.08%)
BOP 33.62 Decreased By ▼ -0.05 (-0.15%)
CNERGY 8.10 Decreased By ▼ -0.04 (-0.49%)
DFML 18.85 Decreased By ▼ -0.24 (-1.26%)
DGKC 193.59 Increased By ▲ 0.13 (0.07%)
FABL 90.00 Increased By ▲ 1.28 (1.44%)
FCCL 52.04 Decreased By ▼ -0.23 (-0.44%)
FFL 18.02 Increased By ▲ 0.30 (1.69%)
GGL 20.56 Increased By ▲ 0.11 (0.54%)
HBL 283.00 Increased By ▲ 1.43 (0.51%)
HUBC 213.45 Decreased By ▼ -0.01 (-0%)
HUMNL 11.15 Decreased By ▼ -0.03 (-0.27%)
KEL 7.83 Decreased By ▼ -0.03 (-0.38%)
LOTCHEM 28.59 Decreased By ▼ -0.18 (-0.63%)
MLCF 86.15 Increased By ▲ 0.55 (0.64%)
OGDC 316.99 Increased By ▲ 0.31 (0.1%)
PAEL 39.92 Decreased By ▼ -0.35 (-0.87%)
PIBTL 17.03 Decreased By ▼ -0.01 (-0.06%)
PIOC 270.00 Increased By ▲ 0.68 (0.25%)
PPL 223.13 Decreased By ▼ -0.93 (-0.42%)
PRL 34.44 Decreased By ▼ -0.18 (-0.52%)
SNGP 99.20 Decreased By ▼ -0.88 (-0.88%)
SSGC 26.61 Increased By ▲ 0.01 (0.04%)
TELE 9.04 Decreased By ▼ -0.04 (-0.44%)
TPLP 11.40 Decreased By ▼ -0.02 (-0.18%)
TRG 70.85 Decreased By ▼ -0.13 (-0.18%)
UNITY 11.53 Decreased By ▼ -0.06 (-0.52%)
WTL 1.28 Increased By ▲ 0.02 (1.59%)

پنجاب کے کئی شہروں میں ہفتے کو فضائی آلودگی خطرناک سطح پر پہنچ گئی۔ سوئس گروپ ایئر کوالٹی انڈیکس کی جانب سے جاری کردہ سب سے زیادہ آلودہ بڑے شہروں کی درجہ بندی کے مطابق لاہور دنیا کا سب سے زیادہ آلودہ شہر بن گیا۔

ہفتے کی صبح لاہور کا ایئر کوالٹی انڈیکس 363 ریکارڈ کیا گیا جو انسانی صحت کے لیے انتہائی مضر سطح ہے۔

جبکہ بھارت کا دارالحکومت نئی دہلی آلودگی کے لحاظ سے دوسرے نمبر پر رہا جہاں ایئر کوالٹی انڈیکس 260 تک پہنچ گیا۔

تاہم پنجاب کے شہر فیصل آباد نے خطرے کی گھنٹی مزید تیز بجا دی ہے، جہاں فضائی معیار لاہور سے بھی زیادہ خراب ہے۔ آج نیوز کے مطابق فیصل آباد میں ایئر کوالٹی انڈیکس 539 ریکارڈ ہوا جو خطرناک ترین زمرے میں آتا ہے۔

گوجرانوالہ میں ایئر کوالٹی انڈیکس 239، ملتان میں 227 اور سیالکوٹ میں 191 ریکارڈ کیا گیا۔

ماہرین ماحولیات کے مطابق گاڑیوں سے نکلنے والا دھواں، فیکٹریوں کے دھوئیں، فصلوں کی باقیات جلانے اور بھارت سے آنے والی سرحد پار دھند (اسموگ) نے صورتحال کو مزید خراب کر دیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق لاہور اور فیصل آباد کی فضا زیادہ تر ٹریفک کے دباؤ اور صنعتی آلودگی سے متاثر ہے، کراچی میں بندرگاہی سرگرمیاں اور شہری ہجوم آلودگی بڑھا رہے ہیں جب کہ اسلام آباد اور راولپنڈی میں تعمیراتی دھول اور گاڑیوں کا دھواں بڑی وجہ ہیں۔ ملتان میں زرعی فضلہ جلانے اور سرحد پار آلودگی نے فضا کو زہریلا بنا دیا ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق ہر سال تقریباً 70 لاکھ افراد فضائی آلودگی کے باعث موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں جبکہ اربوں افراد مختلف بیماریوں میں مبتلا ہوتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ موسم کے لحاظ سے فضائی آلودگی میں وقتی بہتری آسکتی ہے تاہم اکتوبر سے فروری کے دوران دھند، کم ہوا اور سرد موسم کے باعث آلودگی زمین کے قریب جم جاتی ہے۔ جب تک حکومت مؤثر پالیسیوں اور موسمی کنٹرول اقدامات نہیں اپناتی، پاکستان میں ہر سال یہی صورتحال دہرائی جاتی رہے گی۔

ماہرین نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ آلودگی کے دنوں میں غیر ضروری طور پر باہر نکلنے سے گریز کریں، گھروں کی کھڑکیاں بند رکھیں، ہوا صاف کرنے والے آلات استعمال کریں اور اگر باہر جانا ضروری ہو تو ماسک ضرور پہنیں۔

Comments

Comments are closed.