BR100 Decreased By (-0.07%)
BR30 Decreased By (-0.14%)
KSE100 No Change (0%)
KSE30 No Change (0%)
BAFL 55.50 Decreased By ▼ -0.70 (-1.25%)
BIPL 26.90 Increased By ▲ 0.13 (0.49%)
BOP 32.64 Decreased By ▼ -0.34 (-1.03%)
CNERGY 10.29 Increased By ▲ 0.19 (1.88%)
DFML 17.81 Increased By ▲ 0.09 (0.51%)
DGKC 195.18 Decreased By ▼ -1.49 (-0.76%)
FABL 98.68 Decreased By ▼ -0.30 (-0.3%)
FCCL 51.74 Increased By ▲ 0.49 (0.96%)
FFL 16.49 Increased By ▲ 0.31 (1.92%)
GGL 25.06 Increased By ▲ 0.07 (0.28%)
HBL 292.00 Decreased By ▼ -3.49 (-1.18%)
HUBC 213.97 Decreased By ▼ -0.21 (-0.1%)
HUMNL 10.45 Increased By ▲ 0.09 (0.87%)
KEL 7.14 Increased By ▲ 0.08 (1.13%)
LOTCHEM 26.81 Decreased By ▼ -2.31 (-7.93%)
MLCF 88.17 Decreased By ▼ -0.65 (-0.73%)
OGDC 310.38 Decreased By ▼ -1.57 (-0.5%)
PAEL 40.85 Decreased By ▼ -0.14 (-0.34%)
PIBTL 15.85 Decreased By ▼ -0.11 (-0.69%)
PIOC 283.69 Increased By ▲ 0.85 (0.3%)
PPL 211.10 Decreased By ▼ -1.56 (-0.73%)
PRL 53.14 Increased By ▲ 0.60 (1.14%)
SNGP 98.25 Decreased By ▼ -1.11 (-1.12%)
SSGC 24.85 Decreased By ▼ -0.25 (-1%)
TELE 8.29 Decreased By ▼ -0.03 (-0.36%)
TPLP 12.97 Decreased By ▼ -0.25 (-1.89%)
TRG 58.97 Increased By ▲ 2.08 (3.66%)
UNITY 9.88 Decreased By ▼ -0.06 (-0.6%)
WTL 1.23 Increased By ▲ 0.01 (0.82%)

پنجاب کے کئی شہروں میں ہفتے کو فضائی آلودگی خطرناک سطح پر پہنچ گئی۔ سوئس گروپ ایئر کوالٹی انڈیکس کی جانب سے جاری کردہ سب سے زیادہ آلودہ بڑے شہروں کی درجہ بندی کے مطابق لاہور دنیا کا سب سے زیادہ آلودہ شہر بن گیا۔

ہفتے کی صبح لاہور کا ایئر کوالٹی انڈیکس 363 ریکارڈ کیا گیا جو انسانی صحت کے لیے انتہائی مضر سطح ہے۔

جبکہ بھارت کا دارالحکومت نئی دہلی آلودگی کے لحاظ سے دوسرے نمبر پر رہا جہاں ایئر کوالٹی انڈیکس 260 تک پہنچ گیا۔

تاہم پنجاب کے شہر فیصل آباد نے خطرے کی گھنٹی مزید تیز بجا دی ہے، جہاں فضائی معیار لاہور سے بھی زیادہ خراب ہے۔ آج نیوز کے مطابق فیصل آباد میں ایئر کوالٹی انڈیکس 539 ریکارڈ ہوا جو خطرناک ترین زمرے میں آتا ہے۔

گوجرانوالہ میں ایئر کوالٹی انڈیکس 239، ملتان میں 227 اور سیالکوٹ میں 191 ریکارڈ کیا گیا۔

ماہرین ماحولیات کے مطابق گاڑیوں سے نکلنے والا دھواں، فیکٹریوں کے دھوئیں، فصلوں کی باقیات جلانے اور بھارت سے آنے والی سرحد پار دھند (اسموگ) نے صورتحال کو مزید خراب کر دیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق لاہور اور فیصل آباد کی فضا زیادہ تر ٹریفک کے دباؤ اور صنعتی آلودگی سے متاثر ہے، کراچی میں بندرگاہی سرگرمیاں اور شہری ہجوم آلودگی بڑھا رہے ہیں جب کہ اسلام آباد اور راولپنڈی میں تعمیراتی دھول اور گاڑیوں کا دھواں بڑی وجہ ہیں۔ ملتان میں زرعی فضلہ جلانے اور سرحد پار آلودگی نے فضا کو زہریلا بنا دیا ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق ہر سال تقریباً 70 لاکھ افراد فضائی آلودگی کے باعث موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں جبکہ اربوں افراد مختلف بیماریوں میں مبتلا ہوتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ موسم کے لحاظ سے فضائی آلودگی میں وقتی بہتری آسکتی ہے تاہم اکتوبر سے فروری کے دوران دھند، کم ہوا اور سرد موسم کے باعث آلودگی زمین کے قریب جم جاتی ہے۔ جب تک حکومت مؤثر پالیسیوں اور موسمی کنٹرول اقدامات نہیں اپناتی، پاکستان میں ہر سال یہی صورتحال دہرائی جاتی رہے گی۔

ماہرین نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ آلودگی کے دنوں میں غیر ضروری طور پر باہر نکلنے سے گریز کریں، گھروں کی کھڑکیاں بند رکھیں، ہوا صاف کرنے والے آلات استعمال کریں اور اگر باہر جانا ضروری ہو تو ماسک ضرور پہنیں۔

Comments

Comments are closed.