پاکستان حالیہ دنوں شدید سیلابوں کی زد میں آیا ہے، جن کے اثرات جانی نقصان سے بڑھ کر معیشت پر بھی گہرے ہوں گے۔ ابتدائی تخمینوں کے مطابق رواں مالی سال میں معاشی شرحِ نمو میں تقریباً آدھا فیصد کمی کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جو مزید معلومات سامنے آنے پر بڑھ بھی سکتی ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی مشرقِ وسطیٰ اور وسطی ایشیا کے لیے جاری کردہ تازہ علاقائی معاشی جائزہ رپورٹ ( ریجنل اکنامک آؤٹ لک) کے اکتوبر ایڈیشن بعنوان ریزئیلیئنس اینڈ انسرٹینٹی : ول اٹ لاسٹ؟ میں کہا گیا ہے کہ سنہ 2025 کی تیسری سہ ماہی کے دوران پاکستان میں آنے والے شدید سیلاب معیشت، مہنگائی اور جاری کھاتے پر اندازوں سے زیادہ منفی اثر ڈال سکتے ہیں، اگرچہ ان اثرات میں اب بھی خاصی غیر یقینی پائی جاتی ہے۔
آئی ایم ایف کی 14 اکتوبر کو جاری کردہ پریس ریلیز نمبر 25/345 میں مالیاتی نظم و ضبط ( فسکل کنسولیڈیشن) کے تسلسل اور سخت مالیاتی پالیسی (ٹائٹ مانیٹری پالیسی) برقرار رکھنے پر زور دیا گیا ہے، جو دراصل کفایت شعاری پر مبنی پالیسیوں کے جاری رہنے کی نشاندہی کرتا ہے۔
پریس ریلیز کا عنوان تھا: آئی ایم ایف اور پاکستان کے درمیان 37 ماہ کے توسیعی مالیاتی انتظام (ای ایف ایف ) کے دوسرے جائزے اور 28 ماہ کے لچک و پائیداری سہولت (آر ایس ایف) کے پہلے جائزے پر اسٹاف سطح کے معاہدے تک رسائی، جس میں کہا گیا ہے کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) محتاط مالیاتی پالیسی پر کاربند ہے، جو حالیہ سیلابوں اور معاشی بحالی کے اثرات سمیت موصول ہونے والے اعداد و شمار کی روشنی میں رہنمائی حاصل کرے گی، تاکہ مہنگائی کو 5 تا 7 فیصد کے ہدفی دائرے میں مستقل طور پر برقرار رکھا جا سکے۔”
مزید کہا گیا ہے کہ اگرچہ سیلاب سے قیمتوں پر وقتی اثر پڑنے کا امکان ہے، تاہم اگر مہنگائی کے دباؤ میں شدت آئی یا توقعات غیر مستحکم ہوئیں تو اسٹیٹ بینک اپنی پالیسی میں مناسب تبدیلی کے لیے تیار ہے۔
آئی ایم ایف نے موجودہ توسیعی مالیاتی پروگرام (ای ایف ایف) کی شرائط کے تحت اس پالیسی سمت سے اتفاق کیا ہے، جو بظاہر معیشت کے استحکام اور نمو، دونوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ ترقی پذیر ممالک، بالخصوص پاکستان میں، مہنگائی کی نوعیت عموماً مالیاتی اور رسدی ( سپلائی سائیڈ) عوامل سے جڑی ہوتی ہے۔ حالیہ تباہ کن سیلابوں کے نتیجے میں مجموعی رسد متاثر ہوئی ہے، جس کے اثرات کو کم کرنے کے لیے سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، نہ کہ پالیسی ریٹ بڑھا کر مجموعی طلب کو مزید دبایا جائے۔
مزید برآں مہنگائی کے لیے 5 تا 7 فیصد کا ہدف بھی غیر موزوں دکھائی دیتا ہے، کیونکہ معاشی نمو کی شرح بمشکل آبادی میں اضافے کی رفتار سے بہتر رہنے کی توقع ہے۔ بڑھتی ہوئی غربت اور بے روزگاری کے پیشِ نظر، جو کئی برسوں سے مجموعی طلب دباؤ پالیسیوں کا نتیجہ ہیں، ایک نسبتاً بلند مہنگائی ہدف اور معمولی منفی حقیقی شرحِ سود زیادہ مناسب رہتی۔
مزید برآں سیلاب سے ہونے والے نقصانات سے نمٹنے کی فوری ضرورت کے پیشِ نظر، خاص طور پر کسانوں کی مالی حالت بہتر بنانے اور انہیں گندم سمیت دیگر فصلوں کی بوائی میں مدد فراہم کرنے کے لیے، آئی ایم ایف کے لیے ضروری ہے کہ وہ بنیادی مالیاتی سرپلس ( پرائمری سرپلس ) کے حصول سے متعلق موجودہ پروگرام کی شرائط پر نظرِثانی کرے۔
دوسری جانب، حالیہ سیلاب اور پاکستان کی مجموعی طور پر ماحولیاتی تبدیلیوں سے شدید کمزوری، جیسا کہ پاکستان عالمی ماحولیاتی خطرات کے اشاریے ( گلوبل کلائمٹ رسک انڈیکس 2025) میں سرفہرست رہا، اس بات کی متقاضی ہے کہ پالیسی ریٹ میں کمی کی جائے۔ حقیقی شرحِ سود اب بھی غیرضروری طور پر مثبت 4 فیصد کی بلند سطح پر ہے، جس سے قیمتوں میں لاگت کے دباؤ سے پیدا ہونے والی مہنگائی میں اضافہ ہوتا ہے۔ شرحِ سود میں کمی نہ صرف سرمایہ کی لاگت گھٹائے گی بلکہ نجی و سرکاری شعبے کی سرمایہ کاری میں اضافہ ممکن بنائے گی اور سود کی ادائیگیوں میں کمی سے مالی گنجائش (فسکل اسپیس) بہتر ہوگی۔
ملک کو درپیش ماحولیاتی خطرات کی شدت کا اندازہ کلائمٹ رسک انڈیکس کے دائرۂ کار سے لگایا جا سکتا ہے۔ اس اشاریے کے مرتبین کے مطابق کلائمٹ رسک انڈیکس (سی آر آئی) جو 2006 سے شائع ہو رہا ہے، موسم سے متعلق انتہائی واقعات کے اثرات کا طویل مدتی سالانہ جائزہ پیش کرنے والا ایک نمایاں اشاریہ ہے۔ یہ اشاریہ ممالک پر ان خطرات کے معاشی اور انسانی اثرات، اموات، متاثرین، زخمیوں اور بے گھر ہونے والے افراد، کی بنیاد پر درجہ بندی کرتا ہے، اور سب سے زیادہ متاثرہ ملک کو فہرست میں اوپر رکھا جاتا ہے۔
یہ اعداد و شمار واضح کرتے ہیں کہ پاکستان ماحولیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے انتہائی غیر محفوظ ملک ہے۔ بدقسمتی سے، اس خطرے سے نمٹنے کے لیے درکار مناسب پالیسی ردعمل نہ تو ملکی حکام کے سوچ کے زاویے میں نظر آتا ہے اور نہ ہی آئی ایم ایف کے توسیعی مالیاتی انتظام (ای ایف ایف) پروگرام کی فکری سمت میں۔
مزید یہ کہ بظاہر آئی ایم ایف کے اندر بھی مربوط تجزیاتی نوٹسوں کا فقدان دکھائی دیتا ہے۔ ایک جانب پریس ریلیز میں مہنگائی کے دباؤ پر قابو پانے کے لیے مالیاتی نظم و ضبط اور سخت مالیاتی پالیسی جاری رکھنے پر زور دیا گیا ہے، حالانکہ یہ دباؤ مجموعی رسد میں کمی سے پیدا ہونے والا ہے، جس کے باعث ایسا مشورہ بےمحل ہے، جبکہ دوسری جانب علاقائی معاشی جائزہ رپورٹ (آر ای او) خود تسلیم کرتی ہے کہ بلند شرحِ سود مالیاتی کمزوریوں میں اضافہ کرے گی۔ رپورٹ کے مطابق بلند قرض لاگت دو خطوں میں مالیاتی اور فنانشل کمزوریوں کو مزید بڑھا سکتی ہے، خصوصاً ان معیشتوں میں جنہیں حکومتی قرض کی زیادہ ضروریات درپیش ہیں، اور جن کے بینکنگ شعبوں میں خودمختار بانڈز (ساؤرن بانڈز) کا بڑا حصہ موجود ہے، جیسے الجزائر، مصر اور پاکستان۔
وسیع تر تناظر میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی حال ہی میں جاری کردہ نمایاں رپورٹ ورلڈ اکنامک آؤٹ لک (ڈبلیو ای او) کے مطابق پاکستان کی معیشت نے 2007 سے 2016 کے دس سالہ عرصے میں اوسطاً 3.5 فیصد حقیقی جی ڈی پی کی شرحِ نمو حاصل کی، جبکہ اگلے دس برسوں یعنی 2017 سے 2026 کے دوران (جس میں مالی سال 2025-26 اور 2026-27 کے لیے تخمینے شامل ہیں) یہ شرح محض 3.4 فیصد رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
اس تمام عرصے کے دوران، اور دراصل اس سے بھی پہلے، یعنی 1980 کی دہائی کے آخر سے، پاکستان نے نیولبرل، حد سے زیادہ سخت اور معاشی چکر کے تابع ( پرو سائیکلکل) پالیسی رجحان اپنائے رکھا ہے، خواہ وہ آئی ایم ایف پروگرام کے اندر ہو یا اس کے باہر۔ اس تسلسل کے باوجود نہ تو پائیدار معاشی نمو حاصل ہو سکی، نہ ہی حقیقی میکرو اکنامک استحکام ممکن ہوا، جبکہ معیشت کی مجموعی لچک (ریزیلئینس ) بھی بتدریج کمزور ہوتی چلی گئی۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025

























Comments
Comments are closed.