وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ملک کے معدنی وسائل کی مکمل صلاحیت کو اجاگر کرنے اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے جیولوجیکل سیکٹر کو جدید ٹیکنالوجی اور بین الاقوامی مہارت سے آراستہ کرنا ضروری ہے۔
چک شہزاد میں اپ گریڈ شدہ جیو سائنس ایڈوانسڈ ریسرچ لیبارٹریز کے افتتاحی موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ حکومت قدرتی وسائل کے شعبے کو اقتصادی ترقی کا محرک بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ سائنسی اختراع اور بین الاقوامی تعاون ہمارے وسیع معدنی وسائل کی ترقی کی کلید ہیں۔
جی اے آر ایل جیسی جدید سہولتیں درست اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ ڈیٹا فراہم کر کے سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھانے میں مدد کریں گی۔ یہ لیبارٹری، جو 1991 میں قائم ہوئی اور جیو لاجیکل سروے آف پاکستان کے زیرِ انتظام ہے اب ISO/IEC 17025 معیارات کے تحت تسلیم شدہ ہے جس سے یہ اعلیٰ درجہ کی ٹیسٹنگ اور کیلیبریشن کرنے کے قابل ہوگئی ہے۔
عہدیداروں نے کہا کہ لیبارٹری کی صلاحیت کہ وہ ایسے ڈیٹا فراہم کرے جو عالمی رپورٹنگ اسٹینڈرڈز، بشمول JORC کوڈ اور NI 43-101، کے مطابق ہو، بڑے پیمانے پر کان کنی کے منصوبوں کی حمایت کرے گی اور غیر ملکی براہِ راست سرمایہ کاری کو راغب کرے گی۔
وزارتِ پٹرولیم اور جیو لاجیکل سروے آف پاکستان کے عہدیداروں نے کہا کہ اپ گریڈ شدہ سہولت قومی سطح پر جیولوجیکل تحقیق کیلئے ایک مرکز کے طور پر کام کرے گی جو فزیبیلٹی اسٹڈیز اور منصوبوں کی ترقی میں معاونت فراہم کرے گی۔
یہ اقدام حکومت کی وسیع تر کوششوں کا حصہ ہے جس کا مقصد معدنی شعبے کو جدید بنانا اور بہتر سائنسی و تکنیکی صلاحیتوں کے ذریعے غیر مستعمل وسائل کو ترقی دینا ہے۔ چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر، سینئر وزراء اور غیر ملکی مہمان بھی تقریب میں شریک ہوئے۔
























Comments
Comments are closed.