پیرو میں نومنتخب صدر خوسے جیری کے خلاف بدعنوانی اور بڑھتے ہوئے جرائم کے خلاف احتجاجی مظاہروں کے دوران بدھ کی شب تشدد بھڑک اٹھا، جس کے نتیجے میں کم از کم ایک شخص ہلاک اور درجنوں پولیس اہلکار زخمی ہو گئے۔ ملک کے محتسب کے دفتر کے مطابق ہلاک ہونے والے شخص کی شناخت 32 سالہ ایڈورڈو موریسیو روئیز کے طور پر ہوئی ہے۔
جمعرات کو وزیرِاعظم ایرنیستو آلواریز نے اعلان کیا کہ دارالحکومت لیما میں ہنگامی حالت نافذ کی جائے گی اور سیکیورٹی سے متعلق متعدد اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ بڑھتی ہوئی بدامنی پر قابو پایا جا سکے۔
بدھ کی رات نوجوانوں، ٹرانسپورٹ ورکرز اور شہری گروپوں کی جانب سے نکالے گئے مظاہروں میں ہزاروں افراد نے شرکت کی، جن میں سے سینکڑوں نے لیما میں پارلیمنٹ کے باہر پولیس سے جھڑپیں کیں۔ مظاہرین نے نعرے لگائے کہ سب کو جانا ہوگا اور پارلیمنٹ کی عمارت کے گرد لگائی گئی رکاوٹیں ہٹانے کی کوشش کی۔
پولیس سربراہ آسکر اریولا کے مطابق ایک پولیس اہلکار لوئیس ماگالانیز نے مظاہرین کے حملے کے بعد فائرنگ کی جس سے ایک شخص جاں بحق ہوا۔ ماگالانیز کو اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے اور اسے ڈیوٹی سے ہٹا دیا گیا ہے۔
صدر جیری نے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ واقعے کی غیر جانب دارانہ تحقیقات ہوں گی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ جرائم پیشہ عناصر نے پُرامن مظاہرے کو تشدد میں بدل دیا۔
نئے وزیرِ داخلہ ویسنٹے تیبیورسیو نے اعلان کیا کہ حکومت قومی پولیس میں اصلاحات متعارف کرائے گی۔ ان کے مطابق احتجاج کے دوران 89 پولیس اہلکار اور 22 شہری زخمی ہوئے جبکہ 11 مظاہرین کو حراست میں لیا گیا۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ بدھ کی رات کے مظاہرے صدر جیری کے مختصر دورِ حکومت کے لیے ایک ابتدائی آزمائش ثابت ہوں گے۔




















Comments
Comments are closed.