بھارت نے افغان حملوں کو ہوا دی، پاکستان جواب دینے پر مجبور ہوا، شہباز شریف
- قطر نے افغانستان کی درخواست پر 48 گھنٹے کی جنگ بندی میں کردار ادا کیا ہے، وزیراعظم
وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کے روز کہا ہے کہ افغانستان کی عبوری حکومت کی جانب سے پاکستان پر حالیہ حملے بھارت کے اشارے پر کیے گئے ہیں۔ آج نیوز کی رپورٹ کے مطابق ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ حملہ اس وقت ہوا جب افغان وزیرِ خارجہ نئی دہلی میں موجود تھے۔
وفاقی کابینہ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان طویل سرحد اور گہرے ثقافتی رشتے ہیں، مگر حالیہ دشمنانہ کارروائیوں نے اسلام آباد کے صبر کا امتحان لیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ محدود وسائل کے باوجود پاکستان نے دہائیوں تک لاکھوں افغان مہاجرین کی میزبانی کی اور بھائی چارے کی روح برقرار رکھی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان نے کابل کی درخواست پر 48 گھنٹے کی عارضی جنگ بندی پر رضامندی ظاہر کی، جس میں قطر نے ثالثی کا کردار ادا کیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ قطر کے امیر نے بھی دونوں ممالک کے درمیان پائیدار امن کے قیام میں مدد کی پیشکش کی ہے۔
وزیراعظم نے واضح کیا کہ اگر کابل اسلام آباد کی جائز اور واضح شرائط تسلیم کرے تو پاکستان بات چیت کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ “ہم محاذ آرائی نہیں بلکہ مشاورت کے ذریعے امن اور ترقی کے خواہاں ہیں۔”
علاقائی صورتحال پر بات کرتے ہوئے شہباز شریف نے غزہ میں حالیہ جنگ بندی کو جاری خونریزی کے خاتمے کی جانب ایک مثبت قدم قرار دیا اور اس ضمن میں پاکستان، قطر، مصر، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، ملائیشیا اور ترکی سمیت کئی اسلامی ممالک کی کوششوں کو سراہا۔
انہوں نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کے لیے اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ایک آزاد و خودمختار فلسطینی ریاست کا قیام ناگزیر ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے کشمیری عوام کے ساتھ پاکستان کی مسلسل حمایت کے عزم کا اعادہ کیا۔
خطاب کے اختتام پر وزیراعظم نے اعلان کیا کہ پاکستان نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ اسٹاف لیول معاہدہ طے کر لیا ہے، جسے معاشی استحکام کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا۔
یہ بیان 48 گھنٹے کی جنگ بندی کے اعلان کے ایک روز بعد سامنے آیا، جو پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر ایک ہفتے تک جاری جھڑپوں کے بعد عمل میں آئی، جن میں دونوں جانب درجنوں فوجی اور شہری جاں بحق ہوئے۔
پاکستان کو مغربی سرحد پر سیکورٹی فورسز کے خلاف حملوں میں اضافے کا سامنا ہے، جن کی قیادت تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور اس کے اتحادی گروہ کر رہے ہیں۔
اسلام آباد نے کابل پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین پر ٹی ٹی پی کی قیادت میں سرگرم دہشت گرد گروہوں کو پناہ دے رہا ہے، تاہم کابل اس الزام کی تردید کرتا ہے۔
گزشتہ ہفتے اُس وقت کشیدگی میں اضافہ ہوا جب افغانستان کے دارالحکومت سمیت مختلف علاقوں میں دھماکے ہوئے، جن کا الزام طالبان حکام نے پاکستان پر لگایا۔
یہ دھماکے اس وقت ہوئے جب افغان وزیرِ خارجہ بھارت کے ایک غیر معمولی سفارتی دورے پر موجود تھے۔
جوابی کارروائی کے طور پر افغان طالبان فورسز نے سرحدی علاقے میں حملے شروع کیے، جس کے بعد اسلام آباد نے سخت جوابی اقدام کا اعلان کیا۔
بدھ کی شام 6 بجے ( عالمی معیاری وقت کے مطابق دن کے ایک بجے) سے نافذ ہونے والی یہ عارضی جنگ بندی خونریزی روکنے اور مذاکرات کا راستہ ہموار کرنے کے لیے کی گئی ہے۔
پاکستان نے 2021 میں طالبان کی کابل میں دوبارہ برسراقتدار آنے کے بعد سے بارہا مطالبہ کیا ہے کہ افغان سرزمین کو سرحد پار دہشت گرد حملوں کے لیے استعمال ہونے سے روکا جائے۔

























Comments
Comments are closed.