نیشنل بینک آف پاکستان (این بی پی) نے ملک میں کیش لیس بینکاری اور ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن کی جانب پیش رفت کرتے ہوئے قومی احتساب بیورو (نیب) کے لیے اسمارٹ پے سسٹم متعارف کرادیا ہے جس کے ذریعے 24 گھنٹے تیز، محفوظ اور کاغذی کارروائی سے پاک لین دین کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔
یہ سنگ میل نہ صرف این بی پی کے شفاف اور جدید ڈیجیٹل ادائیگیوں کے لگن کی عکاسی کرتا ہے بلکہ ادارہ جاتی شراکت داروں کو قابل اعتماد ڈیجیٹل خدمات کی فراہمی کے عزم کو مستحکم بناتا ہے۔
چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد کی زیرصدارت نیب ہیڈکوارٹر میں معاہدے پر دستخط کی تقریب منعقد ہوئی، جس میں این بی پی کے گروپ ہیڈ (اے) سید فاروق حسن سمیت دونوں اداروں کے سینئر افسران نے شرکت کی۔ تقریب کے دوران چیئرمین نیب نے آن لائن فنڈز ٹرانسفر کا آغاز کیا، اور متاثرین کے بینک اکاؤنٹس میں براہِ راست رقوم منتقل کیں۔
اس سے قبل نیب متاثرین کو رقوم کی واپسی کے لیے این بی پی کی متعلقہ برانچوں کے ذریعے پے آرڈرز جاری کرتا تھا۔ یہ ایک وقت طلب اور پیچیدہ طریقہ کار تھا، جس کے باعث متاثرین کو باربار نیب دفاتر کے چکر لگانے پڑتے تھے۔ تاہم اس ڈیجیٹل حل نے رقم کی ترسیل کے عمل کو جدید اور موثر بنادیا ہے، جس کے تحت فنڈز براہِ راست اور بروقت متاثرین کے بینک اکاؤنٹس میں منتقل کیے جاسکتے ہیں۔
نیا نظام اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ رقوم کی واپسی تیز تر، محفوظ اور سہل انداز میں ہو۔ این بی پی شفافیت اور مالیاتی نظام میں ڈیجیٹل جدت کے فروغ کے لیے نیب کے ساتھ تعاون جاری رکھے گا اور اُن اقدامات کی حمایت کرے گا جو شہریوں کے تحفظ کو یقینی بناتے ہیں اور مالیاتی اداروں پر عوامی اعتماد کو مزید مضبوط بناتے ہیں۔
یہ نیا نظام بینک کے جدت پسندی کے عزم اور ایک قابل اعتماد شراکت دار کے طور پر اس کے کردار کی عکاسی کرتا ہے، جو ایک محفوظ، شفاف اور عوام دوست مالیاتی نظام کی تشکیل میں معاون ہوگا۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025

























Comments
Comments are closed.