بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور کینیڈا کی وزیرِ خارجہ انیتا آنند کے درمیان پیر کو نئی دہلی میں ملاقات ہوئی، جو دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کی بحالی کے بعد کسی اعلیٰ سطح پر کینیڈین عہدیدار کا پہلا دورہ تھا۔
بھارتی وزیرِ خارجہ سبرامنیم جے شنکر نے کہا کہ بھارت اور کینیڈا کے تعلقات گزشتہ چند ماہ سے بہتری کی سمت بڑھ رہے ہیں اور دونوں ممالک ایک دوسرے کی معیشتوں کو ہم آہنگ اور کھلے معاشرے کے طور پر دیکھتے ہیں جو پائیدار تعاون کی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔
2023 میں تعلقات اُس وقت شدید کشیدہ ہوگئے تھے جب کینیڈا نے بھارت پر سکھ رہنما ہر دیپ سنگھ نِجّار کے قتل میں ملوث ہونے کا الزام لگایاتھا، جسے بھارت نے سختی سے مسترد کر دیا تھا۔
اس تنازع کے باعث قونصلر اور تجارتی سرگرمیاں بری طرح متاثر ہوئیں، حالانکہ 2023 میں دونوں ملکوں کے درمیان تقریباً 9 ارب ڈالر کا دوطرفہ تجارتی حجم ریکارڈ کیا گیا تھا۔
مارچ میں مارک کارنی کے کینیڈا کے وزیراعظم بننے کے بعد تعلقات میں بہتری آئی۔ جون میں جی سیون اجلاس کے دوران مودی اور کارنی کی ملاقات میں دونوں نے نئے ہائی کمشنرز کی تقرری پر اتفاق کیا، جو اب اپنے عہدوں پر کام کر رہے ہیں۔
انیتا آنند اپنے دورے کے دوران بھارتی وزیرِ تجارت پیوش گوئل اور ممبئی میں کاروباری رہنماؤں سے بھی ملاقات کریں گی۔
کینیڈا میں بھارت سے باہر سب سے بڑی سکھ آبادی آباد ہے، جس میں خالصتان تحریک کے حامی بھی شامل ہیں جو ایک علیحدہ سکھ ریاست کے قیام کی تحریک چلا رہے ہیں۔
خالصتان تحریک کی جڑیں 1947 کی بھارتی آزادی سے منسلک ہیں اور اسے ایک بھارتی وزیراعظم کے قتل اور مسافر طیارے کے بم دھماکے سے بھی جوڑا جاتا ہے۔
یہ معاملہ بھارت اور کئی مغربی ممالک کے درمیان کشیدگی کی بنیادی وجہ بنا ہوا ہے۔

























Comments
Comments are closed.