ایشیائی منڈی میں جمعہ کی صبح تیل کی قیمتوں میں معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا۔ گزشتہ سیشن میں قیمتوں میں ایک فیصد سے زائد کمی ہوئی تھی کیونکہ مارکیٹ میں جنگ کے خطرات کا اثر کم ہوتا دکھائی دیا، جب اسرائیل اور حماس نے غزہ جنگ کے خاتمے کے لیے منصوبے کے پہلے مرحلے پر اتفاق کیا۔
برینٹ کروڈ فیوچرز کی قیمت 9 سینٹ یا 0.1 فیصد اضافے کے ساتھ 65.31 ڈالر فی بیرل رہی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کروڈ 12 سینٹ یا 0.2 فیصد بڑھ کر 61.63 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا۔
جمعرات کے روز اسرائیل اور فلسطینی تنظیم حماس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پیش کردہ منصوبے کے تحت غزہ جنگ کے خاتمے کے پہلے مرحلے میں جنگ بندی معاہدے پر دستخط کیے۔ اسرائیلی حکومت نے جمعہ کو اس معاہدے کی توثیق کی، جس کے تحت لڑائی بند ہو جائے گی، اسرائیل جزوی طور پر غزہ سے انخلا کرے گا، اور حماس اپنے قبضے میں موجود تمام مغویوں کو رہا کرے گی، بدلے میں اسرائیل سینکڑوں قیدیوں کو آزاد کرے گا۔
بدھ کے روز یوکرین امن معاہدے میں پیش رفت نہ ہونے کے باعث تیل کی قیمتیں ایک فیصد کے قریب بڑھ کر ایک ہفتے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی تھیں، جس سے اس بات کے اشارے ملے کہ روس پر عائد پابندیاں — جو دنیا کا دوسرا سب سے بڑا تیل برآمد کنندہ ہے — ممکنہ طور پر برقرار رہیں گی۔
ہفتہ وار بنیاد پر دونوں بینچ مارک قیمتیں گزشتہ ہفتے کی تیز گراوٹ کے بعد اب بھی تقریباً 1.2 فیصد زائد ہیں۔
اے این زیڈ کے تجزیہ کار ڈینیئل ہائنس نے کہا کہ غزہ جنگ بندی معاہدہ دو سالہ تنازع کے خاتمے کی سمت ایک اہم پیش رفت ہے، جس جنگ نے تیل کی فراہمی میں ممکنہ خلل کے خدشات بڑھا دیے تھے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس معاہدے کے بعد توجہ دوبارہ تیل کی متوقع اضافی فراہمی کی طرف منتقل ہو گئی ہے، کیونکہ اوپیک بتدریج پیداوار میں کمی کے فیصلے واپس لے رہا ہے۔
اوپیک پلس کی جانب سے نومبر میں پیداوار میں توقع سے کم اضافے پر اتفاق رائے نے اضافی فراہمی کے خدشات کو کچھ حد تک کم کیا ہے۔
دوسری جانب سرمایہ کار اس خدشے میں مبتلا ہیں کہ اگر امریکی حکومت کا شٹ ڈاؤن طویل ہوا تو اس سے امریکی معیشت متاثر ہوگی اور تیل کی طلب میں کمی آسکتی ہے۔

























Comments
Comments are closed.