غزہ میں دو سال سے جاری اسرائیلی بمباری نے ہزاروں فلسطینی خاندانوں کو اجاڑ دیا ہے، جن میں خان یونس کی رہائشی انس ابو معمر کی کہانی غم اور صبر کی ایک علامت بن چکی ہے۔
جنگ کے ابتدائی دنوں میں ایک اسرائیلی فضائی حملے نے ابو معمر کے گھر کو ملبے کا ڈھیر بنا دیا۔ اس حملے میں ان کی پانچ سالہ بھتیجی سالی، بھابھی، چچا، اور ننھی سبا سمیت کئی قریبی رشتہ دار شہید ہوئے۔
رائٹرز کے فوٹوگرافر کی تصویر جس میں انس ابو معمر اسپتال کے مردہ خانے میں سالی کی لاش کو گود میں لیے بیٹھی ہیں، عالمی سطح پر جنگ کے دردناک اثرات کی علامت بن گئی۔
اس کے بعد ایک اور فضائی حملے میں ابو معمر کے والد اور بھائی رامز شہید ہوگئے ، جو اہلِ خانہ کے لیے کھانے کا سامان لانے نکلے تھے۔ وہ کہتی ہیں جنگ نے ہمیں تباہ کر دیا۔ ہمارے گھر، ہمارا خاندان سب کچھ ختم ہو گیا۔
مقامی حکام کے مطابق اسرائیلی کارروائیوں میں اب تک 67 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جب کہ ہزاروں افراد ملبے تلے دبے ہیں۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے امن منصوبے کی حمایت کر چکے ہیں، جبکہ حماس نے اسے جزوی طور پر تسلیم کیا ہے، مگر جنگ کے خاتمے کے آثار تاحال دکھائی نہیں دیتے۔
ابو معمر اس وقت ساحلِ غزہ کے قریب ایک خیمہ بستی میں اپنے یتیم بھانجے احمد کے ساتھ رہ رہی ہیں، جو اپنے والدین، بہنوں اور دادا دادی کو کھو چکا ہے۔ خیمہ بستی میں خوراک، پانی اور طبی امداد کی شدید قلت ہے۔
ابو معمر کہتی ہیں کہ ہم نے سب کچھ کھو دیا۔ اب بس یہی دعا ہے کہ یہ جنگ ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے۔

























Comments
Comments are closed.