انڈونیشیا کے صوبہ مشرقی جاوا کے شہر سیدوارجو میں گزشتہ ہفتے منہدم ہونے والے اسلامی رہائشی مدرسے کی تباہی میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر کم از کم 49 ہو گئی ہے۔ ملک کے قدرتی آفات سے نمٹنے والے ادارے نے پیر کے روز جاری ایک بیان میں کہا کہ امدادی کارکنوں نے ملبے کا زیادہ تر حصہ صاف کر لیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق الخوزینی نامی مدرسے کی عمارت گرنے سے درجنوں نوعمر طلبہ ملبے تلے دب گئے تھے، جنہیں بعد میں مردہ حالت میں نکالا گیا۔ حادثے کے وقت عمارت کے بیشتر حصے میں زیرِ تعمیر اوپری منزل پر کام جاری تھا، جب اچانک چھت اور دیواریں زمین بوس ہو گئیں۔
امدادی ادارے کے بیان میں کہا گیا ہے کہ اتوار کی شب تک ایکسیویٹرز کی مدد سے تقریباً 80 فیصد ملبہ ہٹا دیا گیا، جس کے دوران متعدد لاشیں اور جسمانی اعضا برآمد ہوئے۔ حکام کا کہنا ہے کہ لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے کارروائی جاری رہے گی۔
ریسکیو اہلکاروں کو جائے حادثہ سے متعدد نارنجی رنگ کے بیگ میں لاشیں نکالتے دیکھا گیا، جنہیں قریبی اسپتال منتقل کیا گیا۔ حکام کے مطابق مدرسے کی بنیادیں اتنی مضبوط نہیں تھیں کہ وہ زیرِ تعمیر اوپری منزل کا بوجھ برداشت کر سکیں، یہی وجہ عمارت کے اچانک منہدم ہونے کا باعث بنی۔
انڈونیشیا کی وزارتِ مذہبی امور کے مطابق ملک بھر میں تقریباً 42 ہزار اسلامی بورڈنگ اسکولز یا مقامی اصطلاح میں پسانترن موجود ہیں، لیکن ان میں سے صرف 50 اداروں کے پاس باقاعدہ تعمیراتی اجازت نامے ہیں۔
عوامی تعمیرات کے وزیر دوڈی ہانگوڈو نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ یہ ایک تشویشناک حقیقت ہے کہ زیادہ تر دینی ادارے بغیر اجازت تعمیر کیے گئے ہیں، جس سے ان کی ساختی مضبوطی خطرے میں پڑ جاتی ہے۔
تاحال یہ واضح نہیں ہو سکا کہ الخوزینی مدرسے کے پاس تعمیراتی اجازت نامہ تھا یا نہیں۔ مدرسے کے منتظمین سے فوری طور پر رابطہ نہیں ہو سکا۔



























Comments
Comments are closed.