غزہ جنگ بندی کے قریب، موقع ضائع نہیں ہونے دینا چاہیے، وزیراعظم
- تمام شراکت داروں اور برادر ممالک کے ساتھ مل کر فلسطین میں دائمی امن کے لیے کام جاری رکھیں گے، شہباز شریف
وزیراعظم شہباز شریف نے غزہ میں امن کے لیے حماس کے ردعمل کا خیر مقدم کیا اور کہا کہ اس موقع کو ضائع نہیں ہونے دینا چاہیے۔
سماجی رابطوں کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ الحمدللہ، ہم اس نسل کشی کے آغاز کے بعد فلسطینی عوام کے لیے جنگ بندی کے پہلے سے کہیں زیادہ قریب ہیں۔
شہبا زشریف نے کہا کہ میں شکر گزار ہوں صدر ٹرمپ کے ساتھ ساتھ قطر، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، ترکی، اردن، مصر اور انڈونیشیا کی قیادت کا، جنہوں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اجلاس کے موقع پر امریکی صدر ٹرمپ سے فلسطینی مسئلے کے حل کے لیے ملاقات کی۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اپنے تمام شراکت داروں اور برادر ممالک کے ساتھ مل کر فلسطین میں دائمی امن کے لیے کام جاری رکھے گا۔
یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب حماس نے جمعہ کو اعلان کیا کہ وہ ٹرمپ کے فائر بندی منصوبے کے تحت غزہ میں موجود تمام یرغمالیوں کو رہائی دینے کے لیے تیار ہے۔
حماس نے ایک بیان میں کہا کہ تحریک صدر ٹرمپ کے منصوبے میں شامل تبادلے کے فارمولے کے مطابق تمام یرغمالیوں کی رہائی کی منظوری دیتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ وہ مذاکرات میں شامل ہونے کے لیے بھی تیار ہے تاکہ تمام تفصیلات پر بات کی جاسکے۔
مزید برآں نائب وزیرِاعظم اسحاق ڈار نے بھی حماس کے جواب کو خوش آئند اقدام قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ اب یہ فوری فائر بندی، فلسطینی عوام کے دکھوں کے خاتمے، یرغمالیوں کی رہائی اور انسانی ہمدردی کی امداد کے آزادانہ بہاؤ کی صورت میں عملی جامہ پہننا چاہیے۔
اسرائیل کو فوری طور پر حملے بند کرنا چاہیے۔
دریں اثنا ہفتہ کو جاری ایک پریس ریلیز میں دفترِ خارجہ نے صدر ٹرمپ کے اعلان کردہ منصوبے پر حماس کے جواب کو خوش آئند قرار دیا۔
دفترِ خارجہ نے کہا کہ یہ فوری فائر بندی غزہ میں معصوم فلسطینیوں کے خون بہنے کو روکنے، یرغمالیوں اور فلسطینی قیدیوں کی رہائی، بلا روک ٹوک انسانی ہمدردی کی امداد کی فراہمی اور دیرپا امن کی جانب قابلِ اعتماد سیاسی عمل کی راہ ہموار کرنے کا ایک اہم موقع فراہم کرتا ہے۔

























Comments
Comments are closed.