BR100 Decreased By (-1.44%)
BR30 Decreased By (-1.74%)
KSE100 Decreased By (-1.27%)
KSE30 Decreased By (-1.33%)
BAFL 58.05 Decreased By ▼ -0.58 (-0.99%)
BIPL 27.60 Decreased By ▼ -0.60 (-2.13%)
BOP 35.25 Decreased By ▼ -0.85 (-2.35%)
CNERGY 10.07 Increased By ▲ 0.38 (3.92%)
DFML 19.40 Decreased By ▼ -0.41 (-2.07%)
DGKC 217.34 Decreased By ▼ -7.15 (-3.18%)
FABL 100.10 Decreased By ▼ -1.53 (-1.51%)
FCCL 54.22 Decreased By ▼ -1.66 (-2.97%)
FFL 17.33 Decreased By ▼ -0.25 (-1.42%)
GGL 24.75 Decreased By ▼ -0.26 (-1.04%)
HBL 310.60 Decreased By ▼ -3.18 (-1.01%)
HUBC 223.50 Decreased By ▼ -3.55 (-1.56%)
HUMNL 11.00 Decreased By ▼ -0.16 (-1.43%)
KEL 7.94 Decreased By ▼ -0.16 (-1.98%)
LOTCHEM 31.74 Increased By ▲ 0.28 (0.89%)
MLCF 101.20 Decreased By ▼ -3.04 (-2.92%)
OGDC 331.97 Decreased By ▼ -2.16 (-0.65%)
PAEL 43.85 Decreased By ▼ -1.18 (-2.62%)
PIBTL 17.70 Decreased By ▼ -0.27 (-1.5%)
PIOC 269.75 Decreased By ▼ -2.84 (-1.04%)
PPL 231.85 Decreased By ▼ -4.70 (-1.99%)
PRL 42.78 Increased By ▲ 0.71 (1.69%)
SNGP 111.50 Decreased By ▼ -0.90 (-0.8%)
SSGC 30.50 Decreased By ▼ -0.33 (-1.07%)
TELE 9.29 Increased By ▲ 0.12 (1.31%)
TPLP 11.76 Decreased By ▼ -0.86 (-6.81%)
TRG 64.00 Decreased By ▼ -1.58 (-2.41%)
UNITY 10.05 Decreased By ▼ -0.21 (-2.05%)
WTL 1.29 Decreased By ▼ -0.03 (-2.27%)

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے بدھ کے روز ڈیموکریٹس کی اکثریت رکھنے والی ریاستوں کے لیے 26 ارب ڈالر کے فنڈز منجمد کر دیے، جس سے حکومتی شٹ ڈاؤن کو سیاسی دباؤ کے طور پر استعمال کرنے کی دھمکی پر عمل درآمد شروع ہو گیا۔ اس اقدام کے تحت نیویارک میں 18 ارب ڈالر کے ٹرانزٹ منصوبے اور 16 ڈیموکریٹس کی زیر انتظام ریاستوں میں 8 ارب ڈالر کے گرین انرجی منصوبے متاثر ہوئے، جن میں کیلیفورنیا اور الینوائے شامل ہیں۔

نائب صدر جے ڈی وینس نے انتباہ دیا کہ اگر شٹ ڈاؤن چند دنوں سے زیادہ جاری رہا تو وفاقی ملازمین کے خلاف اقدامات مزید بڑھ سکتے ہیں۔ اس وقت تقریباً 7.5 لاکھ وفاقی ملازمین کو کام سے روک دیا گیا ہے، جب کہ فوجی اور بارڈر اہلکار بغیر تنخواہ کے کام پر مامور ہیں۔ محکمہ ویٹرنز افیئرز نے اعلان کیا ہے کہ قومی قبرستانوں میں تدفین جاری رہے گی مگر کتبے لگانے اور دیکھ بھال روک دی گئی ہے۔

ڈیموکریٹ رہنماؤں نے اس فیصلے کو سیاسی انتقام قرار دیا۔ ایوان نمائندگان میں ڈیموکریٹس کے رہنما حکیم جیفریز نے کہا کہ نیویارک کے منصوبے رکنے سے ہزاروں افراد بے روزگار ہو جائیں گے۔ سینیٹ کے ڈیموکریٹک لیڈر چَک شُومر نے الزام لگایا کہ ٹرمپ امریکی عوام کو یرغمال بنا کر سیاسی بلیک میلنگ کر رہے ہیں۔

ریپبلکن رہنماؤں نے الزام مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اگر ڈیموکریٹس حکومت کھولنے کے حق میں ووٹ دیں تو مسئلہ حل ہو سکتا ہے۔ تاہم سینیٹ میں بار بار کوششوں کے باوجود بجٹ منظور نہ ہو سکا۔ اس وقت تنازعہ 1.7 ٹریلین ڈالر کے اخراجات سے متعلق ہے، جو سرکاری اداروں کے آپریشنز کے لیے درکار ہیں۔

سیاسی تعطل نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے، اور تجزیہ کاروں کے مطابق اگر شٹ ڈاؤن طویل ہوا تو 2018-19 کے ریکارڈ 35 روزہ شٹ ڈاؤن کی یاد تازہ ہو سکتی ہے۔

Comments

Comments are closed.