وفاقی بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کو ریونیو کے اعداد و شمار پر بریفنگ دی ہے جو کہ پاکستان اورآئی ایم ایف کے درمیان تکنیکی سطح کے مذاکرات کے تعارفی اجلاس میں پیش کی گئی۔
آئی ایم ایف اور وزارتِ خزانہ کے درمیان باضابطہ مذاکرات پیر (29 ستمبر) سے شروع ہونگے۔
ٹیکس حکام اور آئی ایم ایف کی تکنیکی ٹیم کے درمیان اجلاس جمعرات کے روز اسلام آباد کے ایک مقامی ہوٹل میں منعقد ہوا۔
اجلاس کی صدارت ایف بی آر کے چیئرمین نے کی، جس میں ریونیو وصولیوں کی پیش رفت اور ممکنہ کمی کو پورا کرنے کی حکمتِ عملیوں پر غور کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق ایف بی آر ٹیم نے آئی ایم ایف مشن کو موجودہ مالی سال میں ٹیکس ریونیو کی کارکردگی سے آگاہ کیا۔ اجلاس میں پہلی سہ ماہی میں محصولات کے اہداف کے حصول اور ممکنہ کمی پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
وفد نے یہ بھی واضح کیا کہ حالیہ شدید سیلابوں نے ٹیکس وصولیوں پر منفی اثر ڈالا ہے۔
آئی ایم ایف مشن اس ہفتے کے آخر میں وزارتِ خزانہ اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے حکام سے ملاقات کرے گا جبکہ اگلے ہفتے صوبائی حکومتوں کے نمائندوں سے الگ اجلاس بھی ہوں گے۔
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب پیر کو آئی ایم ایف وفد کے ساتھ اعلیٰ سطح کا اجلاس کریں گے جس میں تکنیکی مذاکرات کی پیش رفت کا جائزہ لیا جائے گا اور حکومت کا مالیاتی روڈ میپ پیش کیا جائے گا۔
بزنس ریکارڈر سے گفتگو کرتے ہوئے آئی ایم ایف کے پاکستان میں نمائندے ماہر بنچی نے کہا کہ انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ کا ایک مشن، جس کی قیادت پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کی مشن چیف مس ایوا پیٹرووا کر رہی ہیں، اسلام آباد پہنچ گیا ہے تاکہ ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی کے تحت دوسرے جائزے اور ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی کے پہلے جائزے پر مذاکرات کیے جا سکیں۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025






















Comments
Comments are closed.