وفاقی وزیر برائے آبی وسائل محمد معین وٹو نے منگل کے روز عالمی بینک کے وفد سے ملاقات کی ہے، جس میں پاکستان میں پانی کے تحفظ کو مضبوط بنانے، سیلابی نقصانات سے بچاؤ کی صلاحیت بڑھانے اور پانی کی کمی کے مسائل کے حل پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔
بیان کے مطابق وفد کی قیادت میسکرم برہانے نے کی، جو مشرق وسطیٰ، شمالی افریقہ، افغانستان اور پاکستان ریجن میں عالمی بینک کی ریجنل ڈائریکٹر برائے ’پلانٹ‘ ہیں۔ ان کے ہمراہ عالمی بینک کے سینیئر حکام بیکیلے دیبیلے نیگے وو، فرانسوا اونیمس اور بشارت سعید شامل تھے۔ وزارتِ آبی وسائل (MoWR) کے اعلیٰ حکام بھی اجلاس میں موجود تھے۔
محمد معین وٹو نے پاکستان کے پانی کے شعبے میں عالمی بینک کی طویل المدتی شمولیت کو سراہا اور ترجیحی شعبوں پر مشترکہ اقدامات کی فوری ضرورت پر زور دیا ہے۔
بات چیت کا محور بڑھتے ہوئے اور شدید ہوتے سیلاب، بڑھتی ہوئی پانی کی کمی، اور زرعی پانی کے موثر استعمال کو بہتر بنانے کے طریقے تھے۔
میسکرم برہانے نے خیبرپختونخوا اور پنجاب میں حالیہ سیلاب کے باعث جانی و مالی نقصان پر افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے مربوط آبی وسائل کے انتظام، زمین کے استعمال کی منصوبہ بندی اور وفاقی و صوبائی فریقین کے درمیان ہم آہنگی کی اہمیت پر زور دیا۔
انہوں نے واضح کیا کہ موسمیاتی لچک، بالخصوص سیلابی مزاحمت، عالمی بینک کے پاکستان کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک (سی پی ایف) 2026–2035 کے کلیدی مقاصد میں شامل ہے۔
وزارت نے وفد کو آگاہ کیا کہ نیشنل فلڈ پروٹیکشن پلان، 4 سی پی ایف (IV، CPF) سے ہم آہنگ ہے اور عالمی بینک کی معاونت کے لیے اہل ہے۔
وزارت کے ایڈیشنل سیکریٹری نے بتایا کہ قومی آبی پالیسی کے تحت 2030 تک پانی کی ترسیل میں ہونے والے نقصانات کو 33 فیصد تک کم کرنا ایک بڑا ہدف ہے۔ دونوں فریقین نے اتفاق کیا کہ انفرااسٹرکچر، گورننس اور مینجمنٹ میں عملی حل تلاش کرنے کے لیے فالو اپ بات چیت جاری رکھی جائے تاکہ پانی کے موثر استعمال اور سروس کے قابل اعتماد ہونے میں بہتری لائی جا سکے۔
مزید برآں دونوں جانب سے اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ ملک بھر میں منصوبوں کی مانیٹرنگ اور آبی وسائل کی پیمائش میں سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ منصوبوں میں عوامی رسائی کے ساتھ ایک ڈیٹا پر مبنی پلیٹ فارم تشکیل دینا بھی شامل ہے، جس سے پیش رفت کی نگرانی اور قومی آبی وسائل کے انتظام کو مضبوط بنایا جا سکے۔

























Comments
Comments are closed.