BR100 Decreased By (-1.39%)
BR30 Decreased By (-1.72%)
KSE100 Decreased By (-1.3%)
KSE30 Decreased By (-1.25%)
BAFL 56.74 Decreased By ▼ -0.95 (-1.65%)
BIPL 27.04 Decreased By ▼ -0.38 (-1.39%)
BOP 33.68 Decreased By ▼ -0.51 (-1.49%)
CNERGY 9.81 Increased By ▲ 0.19 (1.98%)
DFML 18.52 Decreased By ▼ -0.11 (-0.59%)
DGKC 207.87 Decreased By ▼ -5.16 (-2.42%)
FABL 98.90 Decreased By ▼ -1.89 (-1.88%)
FCCL 53.52 Decreased By ▼ -0.63 (-1.16%)
FFL 16.68 Decreased By ▼ -0.16 (-0.95%)
GGL 23.57 Decreased By ▼ -0.40 (-1.67%)
HBL 304.39 Decreased By ▼ -4.87 (-1.57%)
HUBC 218.11 Decreased By ▼ -3.42 (-1.54%)
HUMNL 10.66 Decreased By ▼ -0.23 (-2.11%)
KEL 7.35 Decreased By ▼ -0.24 (-3.16%)
LOTCHEM 29.11 Decreased By ▼ -1.32 (-4.34%)
MLCF 95.50 Decreased By ▼ -2.66 (-2.71%)
OGDC 317.94 Decreased By ▼ -5.42 (-1.68%)
PAEL 41.83 Decreased By ▼ -0.42 (-0.99%)
PIBTL 16.50 Decreased By ▼ -0.32 (-1.9%)
PIOC 280.01 Decreased By ▼ -5.95 (-2.08%)
PPL 219.74 Decreased By ▼ -4.99 (-2.22%)
PRL 44.59 Increased By ▲ 2.94 (7.06%)
SNGP 107.49 Decreased By ▼ -2.70 (-2.45%)
SSGC 28.93 Decreased By ▼ -0.38 (-1.3%)
TELE 8.76 Decreased By ▼ -0.23 (-2.56%)
TPLP 12.10 Decreased By ▼ -0.67 (-5.25%)
TRG 60.03 Decreased By ▼ -0.42 (-0.69%)
UNITY 10.11 Decreased By ▼ -0.26 (-2.51%)
WTL 1.23 Decreased By ▼ -0.04 (-3.15%)

مئی میں بھارت اور پاکستان کے درمیان چار روزہ جنگ کے دوران آسمان اس وقت روشن ہوگئے جب ڈرونز کو میزائلوں سے مار گرایا گیا، جس نے نئی دہلی کے بقول جنگ کے ایک نئے تصور کو ظاہر کیا۔

بھارت کو امید ہے کہ اس کی جنگی صلاحیتوں کے مظاہرے، جن میں ملکی سطح پر تیار کردہ ایک انوِزِبل شیلڈ میزائل ڈیفنس سسٹم بھی شامل ہے، بین الاقوامی مانگ کو فروغ دیں گے۔

وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے اگست میں کہا کہ یہ آپریشن جنگ کے نئے فن، ایک نئے تصور، تکنیکی ترقی اور خود انحصاری کی ایک جھلک تھا۔

دنیا کے بڑے اسلحہ درآمد کنندگان میں سے ایک رہنے والا بھارت اب خود کو ایک بڑے ہتھیار تیار کرنے اور برآمد کرنے والے ملک کے طور پر دوبارہ پیش کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

دفاعی برآمدات 25-2024 میں ریکارڈ 2.8 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو ابھی بھی بڑے کھلاڑیوں کے مقابلے میں کم ہیں، مگر ایک سال پہلے کے مقابلے میں 12 فیصد زیادہ اور ایک دہائی پہلے کے مقابلے میں 34 گنا زیادہ ہیں۔

ملکی دفاعی پیداوار بھی ریکارڈ 18 ارب ڈالر تک جا پہنچی، جو پانچ سال میں تقریباً دوگنی ہوگئی۔

بھارت اب 100 سے زائد ممالک کو دفاعی ساز و سامان برآمد کرتا ہے، جن میں امریکہ، فرانس اور آرمینیا سرفہرست خریدار ہیں۔ برآمدات میں میزائل، کشتیاں، توپیں، ریڈار سسٹمز، راکٹ لانچرز، سافٹ ویئر اور الیکٹرانک پرزے شامل ہیں۔

’سنہری تجربات‘

مئی کا تصادم 1999 کے بعد دونوں جوہری ہمسایوں کے درمیان بدترین تھا، جس میں میزائل، ڈرون اور توپ خانے کی جھڑپوں میں 70 سے زائد افراد مارے گئے۔ دونوں ممالک نے فتح کا دعویٰ کیا اور ایک دوسرے کے جنگی طیارے گرانے کے دعوے کیے۔

ایک سینئر بھارتی فوجی افسر نے کہا کہ جھڑپوں نے نئے ہتھیاروں کی کارکردگی پر بہت اچھی سمجھ فراہم کی۔ یہ ہمارے لیے اور ہماری تیزی سے بڑھتی ہوئی صنعتی شراکت دار کمپنیوں کے لیے سنہری تجربات تھے۔

ان ہتھیاروں میں آکاش میزائل بھی شامل تھا، جو مصنوعی ذہانت سے چلنے والا ایک گاڑی پر نصب فضائی دفاعی پلیٹ فارم ہے، جس نے میزائلوں اور مسلح ڈرونز کے حملوں کو روک دیا۔

بھارت نے کئی طویل فاصلے تک مار کرنے والے برہموس کروز میزائل بھی پاکستانی ایئر بیسز پر فائر کیے۔ روس کے ساتھ مشترکہ طور پر تیار کردہ اور پہلے ہی فلپائن کو برآمد کیا گیا برہموس، اس جھڑپ کے بعد مزید توجہ کا مرکز بنا۔

ایشیا گروپ کنسلٹنسی کے اشوک ملک نے کہا کہ یہ تصادم مارکیٹ ڈیمانسٹریٹر کی طرح تھا۔ یہ ایک بات ہے کہ میں کوئی چیز خریدوں جو آپ نے بنائی ہے، اور دوسری بات ہے کہ وہ چیز خریدوں جو آپ نے بنائی ہے اور میدانِ جنگ میں کامیابی سے استعمال بھی کی ہے۔

فضائی دفاع

بھارت کا دفاعی بجٹ پچھلی دہائی میں دوگنا ہو کر 78 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔

اسی دوران بھارت نے روسی ہتھیاروں پر انحصار کم کرنے کی کوشش کی ہے اور امریکہ، فرانس اور اسرائیل کے ساتھ درآمدی اور پیداواری معاہدوں پر دستخط کیے ہیں۔

یہ صنعتی دباؤ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب نئی دہلی واشنگٹن اور ماسکو کے ساتھ تعلقات کو متوازن کر رہا ہے اور ساتھ ہی چین کا مقابلہ کر رہا ہے، جو پاکستان کا سب سے بڑا اسلحہ فراہم کنندہ ہے۔

یہ نازک توازن اس وقت مزید مشکل ہوگیا جب واشنگٹن نے نئی دہلی کو روسی تیل خریدنے پر سزا دینے کے لیے بھارتی مصنوعات پر 50 فیصد ٹیرف عائد کر دیا۔

اسی لیے میک ان انڈیا مہم کو فروغ دیا جا رہا ہے، جس کے تحت بھارت فائٹر جیٹ انجن تیار کرنے اور اسرائیلی طرز پر آئرن ڈوم کے طرز کا ایک نظام بنانے کا عزم رکھتا ہے، جسے وہ سدرشن چکر کہتا ہے۔

بھارت نے اپنی تیزی سے بڑھتی ہوئی ڈرون انڈسٹری کو بھی نمایاں کیا ہے، جس کی مالیت 2030 تک 11 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے، جس میں کئی ماڈلز اسرائیلی کمپنیوں کے ساتھ قریبی تعاون کے دوران تیار کیے گئے ہیں۔

تاہم، چیلنجز برقرار ہیں۔

اپریل میں پارلیمنٹ کو شہری ہوا بازی کے جونیئر وزیر مرلی دھر موہل نے بتایا کہ چھوٹے ڈرونز کے 39 فیصد اہم پرزے چینی کمپنیوں سے حاصل کیے گئے تھے۔

Comments

Comments are closed.