سندھ حکومت نے زمینداروں اور زرعی اراضی کے مالکان کے لیے ایک نیا ضابطہ متعارف کروا دیا ہے جس کے تحت ہر وہ مالک جس پر زرعی آمدنی ٹیکس واجب الادا ہے، اسے سندھ ریونیو بورڈ (ایس آر بی) میں رجسٹریشن کرانا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں صوبائی حکومت نے سندھ ایگریکلچرل انکم ٹیکس رولز 2025 کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔
فنانس ڈیپارٹمنٹ سندھ کے مطابق، رجسٹریشن کے لیے افراد اور کمپنیوں کے لیے فارم (اے آئی ٹی-01) جاری کر دیا گیا ہے۔ ہر مالک جو زرعی آمدنی ٹیکس ادا کرنے کا پابند ہے، اسے مقررہ تاریخ تک اپنی انکم ٹیکس ریٹرن ای فائل کرنا ہوگی۔ کمپنیوں کے لیے ریٹرن جمع کرانے کی آخری تاریخ 31 دسمبر مقرر کی گئی ہے، اگر ان کا ٹیکس سال یکم جنوری سے 30 جون کے درمیان ختم ہوتا ہے۔ دیگر مالکان کے لیے یہ تاریخ 30 ستمبر ہوگی۔
قواعد کے مطابق، ریٹرن فارم میں تمام متعلقہ معلومات شامل کرنا لازمی ہوگا اور ٹیکس کی ادائیگی کا ثبوت بھی فارم (اے آئی ٹی-04) کے ذریعے منسلک کرنا ہوگا۔ یہ ریٹرن خودکار جانچ کی بنیاد پر تصور کی جائے گی۔ اگر کوئی مالک مقررہ تاریخ پر ریٹرن جمع نہ کرا سکے تو اسسٹنٹ کمشنر کے برابر یا اس سے اعلیٰ افسر نوٹس جاری کر کے مقررہ مدت میں ریٹرن فائل کرنے کا حکم دے سکتا ہے۔ تاہم ایسا نوٹس ٹیکس سال ختم ہونے کے پانچ سال بعد نہیں دیا جا سکے گا۔
مزید برآں، اگر کوئی مالک اپنی ای فائل کردہ ریٹرن میں کسی غلطی یا کمی کو درست کرنا چاہے تو وہ نظرثانی شدہ ریٹرن جمع کرا سکتا ہے، بشرطیکہ یہ چار سال کے اندر اور اس سے پہلے ہو کہ ٹیکس افسر جانب سے اسسمنٹ کا نوٹس جاری کیا جائے۔ لیکن اگر نظرثانی کے نتیجے میں آمدنی یا ٹیکس کی رقم کم ظاہر ہو تو اس کے لیے کمشنر کی منظوری لازمی ہوگی۔
قواعد میں وضاحت کی گئی ہے کہ ہر مالک اپنی زرعی آمدنی سے متعلق ریکارڈ اردو، سندھی یا انگریزی زبان میں رکھے گا، تاکہ اس کی ٹیکس ذمہ داری کا تعین باآسانی کیا جا سکے۔ یہ ریکارڈ پانچ سال تک محفوظ رکھنا لازمی ہوگا یا جب تک کسی مقدمے یا اپیل کا حتمی فیصلہ نہ ہو جائے۔
مزید یہ کہ اگر کوئی مالک اپنی کٹوتی کے دعوے کے ثبوت فراہم نہ کر سکے تو ٹیکس افسر یہ کٹوتی مسترد کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔ کمپنیوں کو زرعی آمدنی اکروئل بیسس پر ظاہر کرنا ہوگی جبکہ دیگر مالکان نقد یا اکروئل بیسس پر حسابات رکھ سکتے ہیں۔
سندھ ایگریکلچرل انکم ٹیکس رولز 2025 میں اسسمنٹ، دوبارہ اسسمنٹ، نظرثانی اور اپیل کا طریقہ کار بھی بیان کیا گیا ہے۔ یہ اقدام زرعی ٹیکس نظام کو منظم کرنے اور ٹیکس وصولی میں شفافیت لانے کے لیے اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025






















Comments
Comments are closed.