اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کے گورنر جمیل احمد نے کہا ہے کہ اسٹیٹ بینک طویل المدتی قومی خوشحالی کے لیے مالی اور زری استحکام کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔
اسٹیٹ بینک کراچی میں 78ویں یومِ آزادی کے موقع پر پرچم کشائی کی تقریب سے اپنے کلیدی خطاب میں جمیل احمد نے کہا کہ ماضی قریب میں پاکستان کو غیر معمولی معاشی چیلنجز کا سامنا رہا ہے، تاہم اب ملک معاشی استحکام اور پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔
گورنر اسٹیٹ بینک نے بتایا کہ مئی 2023 میں مہنگائی کی شرح 38 فیصد تک پہنچ گئی تھی اور اس کے جواب میں اسٹیٹ بینک نے مہنگائی کو قابو میں لانے کے لیے متعدد اقدامات کیے۔ ان کوششوں کے مثبت نتائج سامنے آئے اور مئی 2024 تک مہنگائی 11.8 فیصد تک گر گئی، جبکہ جون 2025 میں یہ تاریخی کمی کے ساتھ 3.2 فیصد پر آگئی۔
انہوں نے کہا کہ مہنگائی میں بہتری کے رجحان کو دیکھتے ہوئے اسٹیٹ بینک نے جون 2024 سے اب تک پالیسی ریٹ میں سات مرحلوں میں کمی کی، جو 22 فیصد سے کم ہو کر 11 فیصد پر آ گیا۔ ہماری زری پالیسی قیمتوں کے استحکام میں حاصل شدہ کامیابی کو برقرار رکھنے پر مرکوز ہے، اور مہنگائی کو 5 تا 7 فیصد کی حد میں رکھنے کی کوشش جاری رہے گی، جمیل احمد نے کہا کہ یہ اقدامات وسیع تر معاشی و کاروباری مواقع کے حصول میں مددگار ثابت ہوں گے۔
انہوں نے بیرونی شعبے میں بہتری کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر تقریباً تین گنا بڑھ چکے ہیں، جو مالی سال 2023 کے اختتام پر 4.4 ارب ڈالر سے بڑھ کر مالی سال 2025 کے اختتام تک 14.5 ارب ڈالر تک پہنچ گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ 14 سال بعد 2.1 ارب ڈالر کا کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس اور سمندر پار پاکستانیوں کی طرف سے 38.3 ارب ڈالر کی ریکارڈ ترسیلات اس بہتری میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔
گورنر نے کہا کہ اسٹیٹ بینک نے بیرونی جھٹکوں کے خلاف معیشت کی مزاحمت بڑھانے کے لیے زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ کیا ہے، اور یہ اضافہ کسی بھی بیرونی قرض میں اضافے کے بغیر حاصل کیا گیا ہے۔ بین الاقوامی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں نے حالیہ اقدامات کو تسلیم کرتے ہوئے پاکستان کی ریٹنگز میں بہتری کی ہے، جو غیر ملکی سرمایہ کاری کے مواقع بڑھانے میں مدد دے گی۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025

























Comments
Comments are closed.