امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ واشنگٹن اہم معدنیات اور ہائیڈروکاربن کے شعبے میں پاکستان کے ساتھ تعاون کے امکانات تلاش کرنے کا منتظر ہے۔ یہ بیان پاکستان کے یومِ آزادی کے موقع پر امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں سامنے آیا ہے۔
یہ کیوں اہم ہے؟
گزشتہ ماہ واشنگٹن اور اسلام آباد کے درمیان ایک تجارتی معاہدے کو سراہا گیا تھا، جس کے بارے میں پاکستان کا کہنا ہے کہ اس سے ٹیرف میں کمی اور سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا۔ پاکستان کے وزیر تجارت، جام کمال نے کہا ہے کہ اسلام آباد امریکی کاروباری اداروں کو بالخصوص جنوب مغربی صوبہ بلوچستان میں کان کنی کے منصوبوں میں مقامی کمپنیوں کے ساتھ مشترکہ شراکت داری کے ذریعے سرمایہ کاری کے مواقع فراہم کرے گا۔ ان منصوبوں میں امریکی سرمایہ کاروں کو لیز گرانٹس جیسی رعایتیں دی جائیں گی۔
یہ صوبہ کئی اہم کان کنی منصوبوں کا مرکز ہے، جن میں ریکو ڈک کا منصوبہ بھی شامل ہے، جو کینیڈین کمپنی بیرک گولڈ کے زیر انتظام ہے اور جسے دنیا کی سب سے بڑی سونے اور تانبے کی کانوں میں سے ایک تصور کیا جاتا ہے۔
اہم اقتباسات
مارکو روبیو نے بدھ کی شب کہا کہ ہم اقتصادی تعاون کے نئے شعبوں، خصوصاً اہم معدنیات اور ہائیڈروکاربن میں امکانات تلاش کرنے اور متحرک کاروباری شراکت داریوں کو فروغ دینے کے منتظر ہیں۔
مزید کہا گیا ہے کہ ”امریکا انسداد دہشت گردی اور تجارت کے حوالے سے پاکستان کی شمولیت کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔“
سیاق و سباق
گزشتہ چند برسوں کے دوران صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ سے قبل، اسلام آباد اور واشنگٹن کے تعلقات میں تناؤ دیکھنے میں آیا، کیونکہ امریکا نے چین کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ کا مقابلہ کرنے کے لیے پاکستان کے روایتی حریف بھارت کے ساتھ تعلقات کو فروغ دینا شروع کیا۔
افغانستان کے حوالے سے بھی واشنگٹن، خاص طور پر سابق صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کے دوران، اسلام آباد سے نالاں رہا۔ بائیڈن کے دور میں امریکا نے افغانستان سے افراتفری کے عالم میں انخلا کیا، جس کے بعد طالبان نے ملک پر قبضہ کر لیا۔ واشنگٹن نے اس کا الزام پاکستان پر عائد کیا کہ اس نے طالبان کی پشت پناہی کی، تاہم اسلام آباد نے ان الزامات کی تردید کی۔
تاہم حالیہ مہینوں میں امریکا اور پاکستان کے تعلقات میں بہتری آئی ہے۔ صدر ٹرمپ نے بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی کا کریڈٹ لیا، جو ان دونوں ممالک کے مئی میں ہونے والے تصادم کے بعد عمل میں آئی۔ یہ کشیدگی اپریل میں بھارت کے غیرقانونی قبضے والے جموں و کشمیر میں ایک حملے کے بعد بڑھی تھی۔
پاکستان نے اس پیش رفت پر صدر ٹرمپ کی تعریف کی جبکہ بھارت کا موقف برقرار رہا کہ نئی دہلی اور اسلام آباد کو اپنے مسائل دو طرفہ طور پر، بغیر کسی بیرونی مداخلت کے حل کرنے چاہییں۔
انسداد دہشت گردی مذاکرات
امریکا اور پاکستان کے درمیان انسدادِ دہشت گردی سے متعلق تازہ ترین مذاکرات منگل کے روز اسلام آباد میں منعقد ہوئے۔ واشنگٹن پہلے ہی بلوچ علیحدگی پسند تنظیم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) کو ایک ”غیر ملکی دہشت گرد تنظیم“ قرار دے چکا ہے۔
امریکی دارالحکومت میں قائم تھنک ٹینک ”فارن پالیسی“ سے وابستہ جنوبی ایشیا کے امور کے ماہر مائیکل کوگل مین نے کہا ہے کہ ”انسدادِ دہشت گردی سے متعلق امریکا اور پاکستان کا مشترکہ اعلامیہ ان چند برسوں میں ان دونوں ممالک کے درمیان اس موضوع پر آنے والے سب سے زیادہ مثبت اور جامع بیانات میں سے ایک ہے۔“

























Comments
Comments are closed.