کراچی، ٹریفک حادثے میں بہن بھائی جاں بحق، مشتعل ہجوم نے 7 ڈمپر ٹرک نذرِ آتش کردئیے
راشد منہاس روڈ پر ہفتہ اتوار کی رات تیز رفتار ڈمپر سے موٹرسائیکل کے تصادم کے نتیجے میں دو بہن بھائی جاں بحق ہونے پر مشتعل ہجوم نے سات ڈمپر ٹرکوں کو آگ لگا دی۔
حادثہ لکی ون مال کے قریب پیش آیا، جس میں بہن بھائی کے والد شدید زخمی ہوگئے۔ ریسکیو 1122 کے مطابق 22 سالہ ماہ نور اور 14 سالہ علی رضا کو اسپتال منتقل کیا جا رہا تھا کہ وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے، جبکہ والد زیرِ علاج ہیں۔
سانحے کے بعد مشتعل شہریوں نے متعدد ڈمپر ٹرکوں کو نذرِ آتش کر دیا اور ملوث ڈرائیور کو تشدد کا نشانہ بنایا، جسے بعد میں پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔
ایس ایس پی سینٹرل کے مطابق ڈرائیور کو حراست میں لے لیا گیا ہے جبکہ ہنگامہ آرائی کے الزام میں 10 سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا۔
واقعے کے بعد راشد منہاس روڈ ٹریفک کے لیے بند کر دی گئی۔ ریسکیو 1122 نے بتایا کہ آگ پر قابو پا لیا گیا ہے اور کولنگ کا عمل مکمل کر لیا گیا ہے۔
کراچی ٹریفک پولیس کے مطابق ڈمپروں کو جلانے کے واقعے کے باعث الاصف سے حیدرآباد جانے والے دونوں ٹریک کئی گھنٹے بند رہے، جبکہ ٹریفک کو متبادل راستے کے طور پر ٹوٹل پٹرول پمپ کے ذریعے موڑا گیا۔
جوابی ردِعمل میں ڈمپر ڈرائیورز ایسوسی ایشن نے سہراب گوٹھ کے قریب سپر ہائی وے بند کر دی، جس سے ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی، اور نیشنل ہائی وے بند کرنے کی دھمکی دی۔
ایسوسی ایشن کے صدر لیاقت محسود نے الزام عائد کیا کہ حادثے میں ڈمپر نہیں بلکہ ٹینکر ملوث تھا اور سات گاڑیوں کو پہنچنے والے نقصان کی ذمہ داری سندھ حکومت پر عائد ہوتی ہے۔
سندھ کے گورنر کامران ٹیسوری نے جاں بحق افراد کے لیے افسوس کا اظہار کیا، زخمیوں کی صحت یابی کی دعا کی اور ڈمپر ڈرائیور سمیت عوامی تحفظ کو خطرے میں ڈالنے والوں کے خلاف سخت کارروائی پر زور دیا۔
انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ قانون کو اپنے ہاتھ میں نہ لیں۔





















Comments
Comments are closed.