پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں جمعے کو کاروباری سیشن کے دوسرے حصے میں منافع کے حصول (پرافٹ ٹیکنگ) کا رجحان دیکھنے میں آیا، جس کے نتیجے میں دن بھر کی تیزی ختم گئی اور مارکیٹ منفی زون میں داخل ہو گئی۔
کاروباری روز کا آغاز مثبت رجحان کے ساتھ ہوا، جس کے نتیجے میں کے ایس ای 100 انڈیکس ایک وقت میں بلند ترین سطح 146,813.43 پوائنٹس تک پہنچ گیا۔
تاہم، سیشن کے دوسرے حصے میں سرمایہ کاروں نے منافع سمیٹنے کو ترجیح دی، جس کے باعث انڈیکس تنزلی کا شکار ہو کر 144,917.19 پوائنٹس کی کم ترین سطح تک گر گیا۔
کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 264.34 پوائنٹس یا 0.18 فیصد کمی کے ساتھ 145,382.80 پوائنٹس پر بند ہوا۔
ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے اپنی بعد از مارکیٹ رپورٹ میں بتایا ہے کہ مارکیٹ میں سب سے زیادہ مثبت اثر اینگرو، ایف ایف سی، او جی ڈی سی اور ایم سی بی کے حصص کا رہا، جنہوں نے مشترکہ طور پر انڈیکس میں 395 پوائنٹس کا اضافہ کیا۔ دوسری جانب ایفرٹ، لک، سسٹمز، ماری پیٹرولیم اور حبکو کے حصص قدر کھو بیٹھے، جس سے انڈیکس پر 399 پوائنٹس کا دباؤ آیا۔
ہفتہ وار بنیادوں پر دیکھا جائے تو کے ایس ای 100 انڈیکس میں 3.08 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
ٹاپ لائن کا مزید کہنا تھا کہ ”یہ اضافہ بنیادی طور پر میوچل فنڈز کی جانب سے سرمایہ کاری کے باعث ہوا، کیونکہ ایکویٹیز کی کارکردگی دیگر اثاثہ جات کے مقابلے میں بہتر رہی۔“
جمعرات کو بھی پی ایس ایکس نے اپنی ریکارڈ توڑ ریلی جاری رکھی، جب مقامی میوچل فنڈز کی جانب سے مضبوط خریداری کے باعث مارکیٹ میں تیزی کا رجحان برقرار رہا، اور کے ایس ای-100 انڈیکس 558.64 پوائنٹس یا 0.39 فیصد اضافے کے ساتھ 145,647.14 پوائنٹس پر بند ہوا،۔
بین الاقوامی سطح پر، جاپانی شیئرز میں جمعہ کو زبردست اضافہ دیکھا گیا، مثبت مالیاتی رپورٹس اور امریکہ کی جانب سے جاپان کی مصنوعات پر اوور لیپنگ ٹیرف ہٹانے کی توقعات کے باعث، جبکہ دیگر ایشیائی منڈیوں میں کمی ریکارڈ کی گئی۔
ایم ایس سی آئی کا جاپان کے علاوہ ایشیا پیسفک شیئرز کا سب سے بڑا انڈیکس 0.4 فیصد گر گیا، جبکہ ہانگ کانگ مارکیٹ میں سب سے زیادہ کمی ہوئی۔ جاپانی نکی 225 انڈیکس میں 2 فیصد اضافہ اور ٹوپکس انڈیکس نے 3,000 پوائنٹس عبور کرتے ہوئے نیا ریکارڈ بنایا۔
ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کرنے والے جاپانی ادارے سافٹ بینک گروپ کے حصص میں جمعے کو کاروبار کے دوران اس وقت 11 فیصد تک اضافہ دیکھا گیا، جب کمپنی نے مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں منافع میں واپسی کی اطلاع دی۔ اسی طرح، سونی گروپ کے حصص میں بھی زبردست تیزی رہی، جس میں جمعرات کو آمدنی کے مثبت نتائج کے بعد 4.1 فیصد بڑھنے کے بعد مزید 6 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
امریکی اسٹاک فیوچرز میں بھی مثبت رجحان دیکھنے میں آیا، جہاں ایس اینڈ پی 500 ای-مینی فیوچرز میں 0.3 فیصد اور نیسڈیک فیوچرز میں 0.4 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، یوں مارکیٹ لگاتار تیسرے دن تیزی کی طرف گامزن ہے۔
آئی جی مارکیٹس سڈنی کے مارکیٹ تجزیہ کار ٹونی سائکمور کے مطابق یہ ریلی ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب فیڈرل ریزرو کی جانب سے ایک نمایاں نرم مالیاتی پالیسی کی طرف جھکاؤ سامنے آ رہا ہے۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو اعلان کیا ہے کہ وہ کونسل آف اکنامک ایڈوائزرز کے چیئرمین اسٹیفن میرن کو فیڈرل ریزرو کے خالی نشست پر نامزد کریں گے۔ وائٹ ہاؤس مرکزی بینک کی گورننگ بورڈ میں مستقل رکن کی تلاش کے ساتھ ساتھ نئے چیئرمین کی بھی تلاش جاری رکھے ہوئے ہے۔
اس تناظر میں بلومبرگ نیوز کی ایک رپورٹ بھی زیر بحث ہے، جس کے مطابق فیڈ گورنر کرسٹوفر والر فیڈرل ریزرو کے موجودہ چیئرمین جیروِم پاول کی جگہ لینے کے لیے مضبوط ترین امیدوار سمجھے جا رہے ہیں۔ پاول کی مدت 15 مئی 2026 کو ختم ہو رہی ہے۔
دریں اثناء انٹر بینک مارکیٹ میں جمعے کے روز امریکی ڈالر کے مقابلے پاکستانی روپیہ بہتری کے رجحان کے ساتھ بند ہوا، اور 0.03 فیصد کے اضافے سے 282.47 روپے پر آ گیا، یوں روپے کی قدر میں 9 پیسے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
کاروباری سرگرمیوں کے حوالے سے آل شیئر انڈیکس پر مجموعی حجم کم ہو کر 548.05 ملین شیئرز رہا، جو گزشتہ سیشن میں 712.53 ملین تھا۔ حصص کی مجموعی مالیت بھی گھٹ کر 45.49 ارب روپے رہی، جو گزشتہ روز 55.68 ارب روپے تھی۔
کاروباری حجم کے لحاظ سے پاکستان پیٹرولیم 2.19 کروڑ شیئرز کے ساتھ سرفہرست رہا، اس کے بعد بینک آف پنجاب (2.13 کروڑ) اور لوڈز لمیٹڈ (2.05 کروڑ) کا نمبر رہا۔
مجموعی طور پر 482 کمپنیوں کے حصص کا کاروبار ہوا، جن میں151 کے نرخوں میں اضافہ، 296 میں کمی اور 35 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتیں مستحکم رہیں۔























Comments
Comments are closed.