فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے تفریحی کلبوں کو غیر منافع بخش تنظیموں (نان پرافٹ آرگنائزیشن) کی تعریف سے خارج کر دیا ہے۔
ایف بی آر کی جانب سے جاری کردہ فنانس ایکٹ 2025 کی تفصیلات کے مطابق، آرڈیننس کے سیکشن 18 کی ذیلی دفعہ (1) کی شق (b)، جو کوآپریٹو سوسائٹیز کی جانب سے اشیا کی فروخت، غیر منقولہ جائیداد یا خدمات کی فراہمی سے حاصل شدہ آمدن پر ٹیکس لاگو کرتی ہے، کو پچھلے ایکٹ کے ذریعے پہلے ہی واضح کیا جا چکا ہے کہ اس نوعیت کی تمام آمدنی کو اس آرڈیننس کے تحت قابلِ ٹیکس آمدن تصور کیا جائے گا۔
اب اس وضاحت کا دائرہ کار بڑھا دیا گیا ہے، جس کے تحت کوآپریٹو سوسائٹیز کی طرح تفریحی کلبوں کی جانب سے اپنے ممبران کو اشیا یا خدمات کی فراہمی سے حاصل ہونے والی آمدن پر بھی اسی اصول کے تحت ٹیکس لاگو ہوگا۔
ایف بی آر کے مطابق، اس مقصد کے لیے آرڈیننس کے سیکشن 2 کی شق (36) میں بھی ترمیم کی گئی ہے، جس کے تحت وہ تفریحی کلب جن کی کسی بھی کیٹیگری کے نئے ممبران سے جوائننگ فیس 10 لاکھ روپے سے زیادہ ہو، اب غیر منافع بخش تنظیموں کی تعریف میں شامل نہیں ہوں گے۔
ایف بی آر کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد ایسے اداروں پر ٹیکس لاگو کرنا ہے جو بظاہر غیر منافع بخش ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں، مگر درحقیقت اپنی خدمات کے عوض بھاری فیس وصول کرتے ہیں۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025






















Comments
Comments are closed.