اسلام آباد ہائی کورٹ نے منگل کے روز قومی احتساب بیورو (نیب) کو بحریہ ٹاؤن کی جائیدادوں کی نیلامی کی اجازت دیدی۔
چیف جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر اور جسٹس محمد آصف پر مشتمل دو رکنی بینچ نے بحریہ ٹاؤن کی جائیدادوں کی نیلامی کے خلاف دائر درخواستیں مسترد کر دیں۔
عدالت کے مختصر فیصلے میں کہا گیا کہ یہ رٹ پٹیشنز مسترد کی جاتی ہیں۔ اس عدالت کی جانب سے 15 اپریل 2025 کو ڈبلیو پی نمبر 1368/2025 اور 4 جون 2025 کو ڈبلیو پی نمبر 2248/2025 میں جاری کردہ عبوری احکامات واپس لیے جاتے ہیں۔“
سماعت کے دوران بحریہ ٹاؤن کی جانب سے فاروق ایچ نائیک پیش ہوئے جبکہ نیب کی نمائندگی پراسیکیوٹر رافع مقصود نے کی۔
فاروق ایچ نائیک نے مؤقف اپنایا کہ نیب کی نیلامی کا نوٹس غیر قانونی، گمراہ کن اور بدنیتی پر مبنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بحریہ ٹاؤن اس پلی بارگین کیس کا فریق نہیں اور اسے بلاجواز نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملک زین، جنہوں نے بحریہ ٹاؤن کی جائیدادیں بطور ضمانت گروی رکھی تھیں، نے اپنی پلی بارگین منسوخ کرنے کے لیے درخواست دائر کر رکھی ہے، جو اب بھی زیر التوا ہے۔ اگر پلی بارگین عدالتی جانچ کے دائرے میں ہے تو نیب نیلامی کی قانونی کارروائی نہیں کر سکتا۔
انہوں نے کہا کہ نیب کی جانب سے بحریہ ٹاؤن کی جائیدادیں ضبط کرنے اور نیلام کرنے کی کارروائی کا کوئی قانونی جواز نہیں کیونکہ کمپنی کو خود کسی بھی ریفرنس میں 190 ملین پائونڈ کے کیس میں ملزم قرار نہیں دیا گیا۔
نیب کے پراسیکیوٹر نے بحریہ ٹاؤن کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ملک ریاض اور ان کے بیٹے نے نیب کے ساتھ پلی بارگین کی تھی، لیکن وہ طے شدہ رقم ادا کرنے میں ناکام رہے۔ نیب نے واجب الادا رقم کی وصولی کے لیے نیب آرڈیننس 1999 کے سیکشن 33E کے تحت جائیدادوں کی نیلامی کا فیصلہ کیا۔
رافی مقصود نے کہا کہ اسی نوعیت کی ایک درخواست پہلے ہی ٹرائل کورٹ نے مسترد کر دی تھی، جس کے بعد درخواست گزار اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کر کے 12 جون کو نیلامی کے دن حکم امتناع حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔ اس کے بعد نیب نے حکم امتناع ختم کرنے کے لیے درخواست دائر کی۔
نیب کے پراسیکیوٹر نے نشاندہی کی کہ لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ نے درخواست گزاروں کو نیلامی کمیٹی سے رجوع کرنے کی ہدایت دی تھی اور جب انہوں نے وہاں بھی ہائی کورٹ کے حکم امتناع کا سہارا لینے کی کوشش کی تو وہ مسترد کر دی گئی۔
بحریہ ٹاؤن کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ اقدام قانونی طریقہ کار کی خلاف ورزی ہے اور اس سے سرمایہ کاروں کا اعتماد اور کاروباری ماحول متاثر ہوگا۔
نیب کے پراسیکیوٹر نے کہا کہ بحریہ ٹاؤن نے ضمانت دی تھی، اور جب ملزم مفرور ہو تو ضامن کے خلاف کارروائی کی جاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بحریہ ٹاؤن کی درخواست قابل سماعت بھی نہیں ہے۔
فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔






















Comments
Comments are closed.