اسٹاک ایکسچینج میں ریکارڈ بننے کا سلسلہ جاری ، ایک لاکھ 45 ہزار کی تاریخی حد بھی عبور
- آٹوموبائل اسمبلرز، کمرشل بینکس، آئل اینڈ گیس ایکسپلوریشن کمپنیز، آئل مارکیٹنگ کمپنیزاور ریفائنری سمیت اہم شعبوں میں بھرپور خریداری
پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں آئے روز نئے ریکارڈ بننے کا سلسلہ جاری ہے ۔
اسٹاک مارکیٹ میں بدھ کو بھی زبردست تیزی کا رجحان دیکھا جارہا ہے جس کے نتیجے میں انٹرا ڈے ٹریڈنگ کے دوران کے ایس ای 100 انڈیکس 2 ہزار سے زائد پوائنٹس کے اضافے سے ملکی تاریخ میں پہلی بار ایک لاکھ 44 اور پھر ایک لاکھ 45 ہزار کی بلند سطح عبور کرگیا۔
دوپہر ساڑھے 3 بجے کے قریب بینچ مارک انڈیکس 2,076.43 پوائنٹس یا 1.45 فیصد اضافے سے 145,113.59 پوائنٹس کی بلند سطح پر جاپہنچا۔
آٹوموبائل اسمبلرز، کمرشل بینکس، آئل اینڈ گیس ایکسپلوریشن کمپنیز، آئل مارکیٹنگ کمپنیز (او ایم سیز) اور ریفائنری سمیت اہم شعبوں میں خریداری دیکھی گئی۔ انڈیکس میں نمایاں حصص رکھنے والی کمپنیوں جیسے کہ اے آر ایل، او جی ڈی سی ایلپی او ایل، ایس این جی پی ایل، ایس ایس جی سی، ایم سی بی، ایم ای بی ایل اور یو بی ایل کے شیئرز مثبت زون میں ٹریڈ کر رہے تھے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جاری تیزی کی وجہ پرجوش سرمایہ کارانہ رجحان، مثبت معاشی اشاریے اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی ہے۔
منگل کے روز بھی اسٹاک ایکسچینج نے اپنی تاریخی تیزی کو برقرار رکھتے ہوئے کے ایس ای-100 انڈیکس میں 985 پوائنٹس (0.69 فیصد) اضافہ ریکارڈ کیا، اور انڈیکس 143,037.17 کی نئی بلند ترین سطح پر بند ہوا۔
بین الاقوامی سطح پر بدھ کو ایشیائی اسٹاک مارکیٹس اور وال اسٹریٹ میں مندی دیکھی گئی، کیونکہ امریکہ کے کمزور معاشی ڈیٹا نے تجارتی ٹیرف کے معیشت پر منفی اثرات کو اجاگر کیا۔ امریکی ڈالر بھی کمزور بانڈ ییلڈز کے دباؤ میں رہا۔
منگل کو جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، جولائی میں امریکہ کی سروسز سیکٹر کی سرگرمی غیر متوقع طور پر جمود کا شکار رہی۔ روزگار کے مواقع مزید کم ہوئے، اور لاگت میں گزشتہ تین سال کے دوران سب سے زیادہ اضافہ دیکھنے میں آیا، جس سے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹیرف پالیسی کے اثرات سامنے آئے۔
دوسری سہ ماہی کے مالیاتی نتائج میں بھی ٹیرف وارز کا دباؤ نمایاں رہا۔ ٹاکو بیل کی پیرنٹ کمپنی یم برانڈز صارفین کی کمزور خرچ کی وجہ سے توقعات پر پورا نہ اُتر سکی، جبکہ کیٹرپلر نے خبردار کیا کہ امریکی ٹیرف پالیسی اسے رواں سال 1.5 ارب ڈالر تک کا نقصان پہنچا سکتی ہے۔
ایم ایس سی آئی کا ایشیا پیسفک شیئرز کا سب سے وسیع انڈیکس (جاپان کے علاوہ) 0.2 فیصد نیچے آیا، جبکہ جاپان کا نکئی انڈیکس معمولی 0.2 فیصد اوپر رہا۔ چین اور ہانگ کانگ کے انڈیکس تقریباً غیر متحرک رہے۔
نسڈیک فیوچرز 0.3 فیصد اور ایس اینڈ پی 500 فیوچرز 0.1 فیصد نیچے آئے۔
ٹرمپ نے منگل کو کہا کہ اگلے ایک ہفتے میں سیمی کنڈکٹرز اور چپس پر نئے ٹیرف کا اعلان کیا جائے گا، جبکہ دواسازی کی درآمدات پر ابتدائی طور پر ”چھوٹا ٹیرف“ لگایا جائے گا جو ایک دو سال میں بتدریج بڑھے گا۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ چین کے ساتھ تجارتی معاہدے کے قریب ہے اور اگر معاہدہ طے پایا تو وہ سال کے اختتام سے قبل صدر شی جن پنگ سے ملاقات کریں گے۔ تاہم، انہوں نے روسی تیل کی خریداری پر بھارت کے خلاف مزید ٹیرف بڑھانے کی دھمکی بھی دی۔
یہ ایک انٹرا ڈے اپ ڈیٹ ہے۔

























Comments
Comments are closed.