جولائی 2025 میں چینی کی قیمتوں میں سالانہ بنیاد پر 29 فیصد اور ماہانہ بنیاد پر 6.11 فیصد اضافہ ہوا۔ دوسری جانب، مہنگائی کے پیمانے کنزیومر پرائس انڈیکس (سی پی آئی) میں مالی سال 26 کے پہلے مہینے میں 4.1 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
یہ انکشاف ادارہ شماریات کی جاری کردہ ماہانہ قیمتوں کے اشاریوں کے جائزے میں کیا گیا۔
مہنگائی کے پیمانے کنزیومر پرائس انڈیکس (سی پی آئی) میں جولائی 2025 کے دوران سالانہ بنیاد پر 4.1 فیصد اور ماہانہ بنیاد پر 2.9 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
شہری علاقوں میں کنزیومر پرائس انڈیکس (سی پی آئی) کی مہنگائی جولائی 2025 میں سالانہ بنیاد پر بڑھ کر 4.4 فیصد ہوگئی جبکہ ماہانہ بنیاد پراس میں 3.4 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ دیہی علاقوں میں سی پی آءی مہنگائی سالانہ بنیاد پر 3.5 فیصد اور ماہانہ بنیاد پر 2.2 فیصد بڑھی۔
حساس قیمتوں کے اشاریے (اسی پی آءٰ) میں سالانہ بنیاد پر مہنگائی میں 0.9 فیصد کمی ہوئی، جبکہ ماہانہ بنیاد پر 3.1 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔ دوسری جانب، ہول سیل پرائس انڈیکس کی مہنگائی سالانہ بنیاد پر 0.5 فیصد کم ہوئی جبکہ ماہانہ بنیاد پر اس میں 1.2 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
اہم غذائی اشیاء کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جن کی تفصیلات درج ذیل ہیں:چینی کی قیمتوں میں سالانہ بنیاد پر 29.43 فیصد اور ماہانہ بنیاد پر 6.11 فیصد اضافہ ہوا۔مونگ کی قیمت میں سالانہ 19.49 فیصد اضافہ جبکہ ماہانہ بنیاد پر 0.59 فیصد کمی ہوئی۔مکھن کی قیمت میں سالانہ 18.9 فیصد اور ماہانہ 0.55 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔شہد کی قیمت سالانہ 18.68 فیصد بڑھی۔مصالحہ جات اور چٹنیوں کی قیمتوں میں سالانہ 14.95 فیصد اضافہ جبکہ ماہانہ 0.97 فیصد کمی ہوئی۔گُڑ کی قیمت میں سالانہ 14.11 فیصد اور ماہانہ 3.48 فیصد اضافہ ہوا۔ویجیٹیبل گھی کی قیمت میں سالانہ 12.29 فیصد اضافہ جبکہ ماہانہ 0.03 فیصد کمی ہوئی۔تازہ پھلوں کی قیمتیں سالانہ 11.56 فیصد بڑھیں جبکہ ماہانہ 7.7 فیصد کم ہوئیں۔گوشت کی قیمتوں میں سالانہ 11.14 فیصد اور ماہانہ 0.61 فیصد اضافہ ہوا۔مٹھائی کی قیمتوں میں سالانہ 10.29 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔سرسوں کے تیل کی قیمت میں 8.98 فیصد اضافہ ہوا۔مرغی کی قیمت سالانہ 7.7 فیصد جبکہ ماہانہ بنیاد پر 29.73 فیصد بڑھی۔تیار شدہ کھانوں کی قیمت میں سالانہ 7.4 فیصد اضافہ ہواجب کہ مچھلی کی قیمتوں میں 7.25 فیصد اور کوکنگ آئل میں 7.05 فیصد سالانہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
سالانہ بنیاد پر جن اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی، ان کی تفصیل درج ذیل ہے: ٹماٹر کی قیمتوں میں 47.61 فیصد کمی ہوئی جب کہ پیاز کی قیمتوں میں 47.36 فیصد،ماش کی دال میں 23.20 فیصد، گندم کے آٹے میں 21.52 فیصد، گندم کی قیمت میں 21.29 فیصد ،چائے میں 17.75 فیصد، گندم کی مصنوعات میں 9.98 فیصد،مسور کی دال میں 9.22 فیصد،آلو میں 7.76 فیصد،چنے کی دال میں 6.53 فیصد ،ثابت چنا میں 4.82 فیصد، بیسن میں 2.97 فیصد اورلوبیا میں 1.60 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
نان فوڈ آئٹمز میں میں سالانہ بنیاد پر درج ذیل اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا:موٹر وہیکل ٹیکس میں 168.79 فیصد اضافہ ہوا جب کہ گیس چارجز میں 22.91 فیصد، پانی کی فراہمی میں 13.86 فیصد،گھریلو ٹیکسٹائل کی قیمتوں میں 13.45 فیصد،جوتوں کی قیمتوں میں 12.71 فیصد اور ادویات کی قیمتوں میں 12.27 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ درج ذیل نان فوڈ آئٹمز کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی:بجلی کے نرخوں میں 16.85 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ،اس کے علاوہ نصابی کتب میں 7.75 فیصد کمی ہوئی ،اس کے علاوہ مائع ہائیڈروکاربنز میں 2.24 فیصد ،واشنگ صابن، ڈیٹرجنٹس اور ماچس کی قیمتوں میں 2.19 فیصد کمی اورموٹر فیول میں 0.14 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025
Ask ChatGPT
Ask ChatGPT
Ask ChatGPT
Ask ChatGPT
Ask ChatGPT

























Comments
Comments are closed.