صوبائی وزیرِ تعلیم سندھ سردار علی شاہ نے منگل کو کہا کہ نئی بھرتیوں میں صرف لائسنس یافتہ اساتذہ کو تعینات کیا جائے گا، جو صوبے کے تعلیمی نظام کو بہتر بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
یہ بات انہوں نے کراچی میں وزیرِ اعلیٰ ہاؤس میں منعقدہ تدریسی لائسنس کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر وزیرِاعلیٰ سندھ مراد علی شاہ مہمانِ خصوصی تھے۔ تقریب میں 619 اساتذہ کو تدریسی لائسنس اور تقرری کے اسناد جاری کیے گئے۔
وزیر تعلیم سردار علی شاہ نے کہا کہ آج کا دن میرے لیے خوشی کا دن ہے، تین سال قبل جو خواب دیکھا تھا وہ آج حقیقت بن گیا ہے۔ انہوں نے اس تبدیلی کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ تبدیلی خوش آئند ہے، بشرطیکہ وہ مؤثر ہو۔
انہوں نے کہا کہ تدریسی لائسنس کے نفاذ سے نظامِ تعلیم میں نمایاں بہتری آئے گی۔ انہوں نے بتایا کہ جب ابتدا میں لائسنسنگ کا تصور متعارف کرایا گیا تو کچھ لوگوں نے اسے غلط سمجھا اور یہ گمان کیا کہ اساتذہ کو اسلحہ کے لائسنس دیے جارہے ہیں۔
انہوں نے وضاحت کی کہ ماضی میں بغیر لائسنس اساتذہ کو اس لیے بھرتی کیا گیا کیونکہ ترجیح یہ تھی کہ اسکول فعال رہیں، تاہم اب تمام نئے بھرتی ہونے والے اساتذہ کو تربیت دی جائے گی اور تدریسی لائسنس جاری کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ نئی بھرتیوں میں صرف لائسنس یافتہ اساتذہ ہی تعینات کیے جائیں گے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ماضی میں بغیر لائسنس اساتذہ کو صرف اس لیے بھرتی کیا گیا کیونکہ اس وقت اولین ترجیح اسکولوں کو فعال رکھنا تھی، تاہم اب تمام نئے بھرتی ہونے والے اساتذہ کو باقاعدہ تربیت دی جائے گی اور انہیں تدریسی لائسنس جاری کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اب نئی بھرتیوں میں صرف لائسنس یافتہ اساتذہ ہی تعینات کیے جائیں گے۔
وزیر تعلیم نے اساتذہ پر زور دیا کہ وہ تدریس کو صرف ایک پیشہ نہ سمجھیں بلکہ اسے خدمت اور ذمہ داری کے طور پر لیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نئی نسل تیاری کررہے ہیں اور اس کے لیے تربیت یافتہ اساتذہ ناگزیر ہیں۔






















Comments
Comments are closed.