اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے پیر کے روز کہا کہ خوراک کو جنگ کے ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے، کیونکہ عالمی رہنما افریقہ میں خوراک پر ہونے والے اجلاس میں جمع ہوئے جہاں 28 کروڑ افراد بھوک اور قحط کے خطرے سے دوچار ہیں۔
افریقی یونین نے اپنی جانب سے عطیہ دہندگان سے اپیل کی کہ دنیا کے اس غریب ترین براعظم کے لیے زیادہ مدد فراہم کی جائے جو غربت، بدامنی اور ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات سے نبردآزما ہے۔
انتونیو گوتریس نے ایتھوپیا کے دارالحکومت ادیس ابابا میں اقوامِ متحدہ کے فوڈ سسٹمز سمٹ سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھوک عدم استحکام کو ہوا دیتی ہے اور امن کو کمزور کرتی ہے۔ ہمیں کبھی بھی بھوک کو جنگ کے ہتھیار کے طور پر قبول نہیں کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلی فصلوں، سپلائی چینز اور انسانی امداد کو متاثر کر رہی ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ تنازعہ غزہ سے سوڈان اور اس سے آگے تک بھوک پھیلا رہا ہے، ایسے وقت میں جب غزہ کے 20 لاکھ سے زائد افراد قحط اور غذائی قلت کے شدید بحران کا سامنا کر رہے ہیں۔

























Comments
Comments are closed.