یورپی یونین کمیشن کی صدر ارسلا فان ڈیر لائن نے کہا کہ جمعرات کو بیجنگ میں ہونے والا یورپی یونین۔چین سربراہی اجلاس تعلقات کو ’’آگے بڑھانے اور متوازن کرنے‘‘ کا موقع ہے۔ انہوں نے اور یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا چینی صدر شی جن پنگ اور وزیراعظم لی چیانگ کے ساتھ ملاقاتوں میں تجارتی عدم توازن، ریئر ارتھز اور یوکرین جیسے مسائل اٹھانے کا عندیہ دیا۔
فان ڈیر لائن نے جمعرات کو ایکس پر کہا کہ مجھے یقین ہے کہ باہمی طور پر فائدہ مند تعاون ممکن ہے۔ ان کا یہ بیان گزشتہ ہفتوں میں یورپی حکام کی سخت بیانات اور تجارتی کشیدگی کے بعد نسبتاً نرم تھا۔ سرکاری ایجنسی شینخوا نے بھی کہا کہ چین یورپ کا اہم شراکت دار ہے اور مشترکہ مفادات جیسے تجارت، ماحولیاتی تبدیلی اور عالمی حکمرانی اختلافات سے متاثر نہیں ہونے چاہئیں۔
یورپی یونین چین کو ’’شراکت دار، حریف اور نظامی حریف‘‘ قرار دیتی ہے، جو اس کی پالیسی کا حصہ ہے۔ دیگر معاملات جیسے الیکٹرک گاڑیاں، مارکیٹ تک رسائی اور چینی صنعتی گنجائش کی زیادتی بھی اجلاس میں زیر بحث آئیں گے، جو دونوں فریقین کے سفارتی تعلقات کے 50 سال مکمل ہونے پر منعقد ہو رہا ہے۔
سربراہی اجلاس سے توقعات کم ہیں کیونکہ کشیدگی میں اضافہ اور اجلاس کے فارمیٹ پر اختلافات کے باعث اسے بیجنگ کی درخواست پر دو دن سے کم کرکے ایک دن کا کر دیا گیا ہے۔
شینخوا نے کہا کہ ’’تمام بڑے اقتصادی کھلاڑیوں کی طرح، چین اور یورپی یونین ہر چیز پر متفق نہیں ہیں، لیکن اختلاف کا مطلب تصادم نہیں‘‘ اور زیادہ اعتماد کی ضرورت پر زور دیا۔
امید ہے کہ یورپی یونین امریکا کے ساتھ ایک تجارتی معاہدہ طے کرے گی، جو اس کی برآمدات پر 15 فیصد عمومی ٹیرف لاگو کرے گا، اس طرح صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے دھمکی دی گئی 30 فیصد سخت شرح سے بچا جا سکے گا۔

























Comments
Comments are closed.