امریکی محکمہ تجارت نے اعلان کیا ہے کہ وہ چین سے درآمد ہونے والے اینوڈ گریڈ گریفائٹ پر 93.5 فیصد عبوری اینٹی ڈمپنگ ڈیوٹی عائد کرے گا۔ یہ فیصلہ اس تحقیق کی بنیاد پر کیا گیا ہے جس سے معلوم ہوا کہ یہ اہم بیٹری ساز مواد امریکہ میں اپنی منصفانہ مارکیٹ قیمت سے کم نرخ پر فروخت کیا جا رہا ہے۔
رائٹرز کے مطابق، امریکی محکمہ تجارت کی ایک فیکٹ شیٹ میں تمام چینی پروڈیوسرز کے لیے یکساں اینٹی ڈمپنگ مارجن اور نقد جمع کرانے کی شرح 93.5 فیصد مقرر کی گئی ہے۔
محکمے کا کہنا ہے کہ یہ اقدام اُن درآمدات کو متاثر کرے گا جن کی مجموعی مالیت 2023 میں 347.1 ملین ڈالر رہی۔ مذکورہ ڈیوٹی اُن اینوڈ گریڈ گریفائٹ مواد پر لاگو ہوگی جن میں گریفائٹ کی کم از کم خالص مقدار وزنی اعتبار سے 90 فیصد کاربن ہو۔ یہ مواد مصنوعی گریفائٹ، قدرتی گریفائٹ یا دونوں کے امتزاج پر مشتمل ہو سکتا ہے۔
امریکی محکمہ تجارت کی جانب سے چینی اینوڈ گریڈ گریفائٹ مواد پر کی گئی ایک علیحدہ مگر متوازی سبسڈی مخالف تفتیش کے نتیجے میں 20 مئی کو عبوری کاؤنٹر ویلننگ ڈیوٹی عائد کی گئی۔
متعلقہ مواد پر حتمی اینٹی ڈمپنگ اور سبسڈی مخالف ڈیوٹیز 5 دسمبر 2025 تک نافذ کی جائیں گی۔
اینٹی ڈمپنگ اور اینٹی سبسڈی دونوں صورتوں میں درخواست گزار امریکن ایکٹیو اینوڈ میٹریل پروڈیوسرز ہے، جو کہ امریکی پروڈیوسرز کا ایک ایڈہاک اتحاد ہے۔ اس میں سنبورن، نیو یارک کی اینووین ٹیکنالوجیز، وڈالیا، لوزیانا کی سائرہ ٹیکنالوجیز ایل ایل سی، چٹانوگا، ٹینیسی کے نووونکس انوڈ میٹریلز، لیلینڈ، شمالی کیرولینا کے ایپسیلن ایڈوانسڈ میٹریلز، اور ماریٹا، جارجیا کے SKI US Inc شامل ہیں۔

























Comments
Comments are closed.