بلوچستان کے جنوب مغربی علاقے سر ڈھاکہ میں مسلح افراد نے مسافر بسوں سے 9 مسافروں کو اغوا کرکے شہید کردیا۔
صوبائی حکومت کے ترجمان شاہد رند واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ مسافروں کو جمعرات کی شام متعدد بسوں سے اغوا کیا گیا تھا۔
ایک اور سرکاری اہلکار نوید عالم کے مطابق ان کے لاشیں پہاڑوں سے ملی ہیں۔
اب تک کسی نے ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔
دریں اثنا ریڈیو پاکستان کے مطابق صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہبازشریف نے اس بہیمانہ قتل کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔
صدر زرداری نے ایک بیان میں کہا کہ یہ وحشیانہ کارروائی فتنۃ الہندوستان کی بدنیتی پر مبنی سازش کا حصہ ہے جو پاکستان میں خونریزی پھیلانا چاہتی ہے۔ انہوں نے ہر قیمت پر فتنۃ الہندوستان اور اس کے سہولت کاروں کو ملک سے ختم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بلوچستان کے علاقے سر ڈھاکہ میں مسافروں کے اغوا اور بہیمانہ قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردوں سے پوری قوت کے ساتھ نمٹا جائے گا اور اس ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے گا۔
وزیراعظم نے کہا کہ نہتے اور بے گناہ شہریوں کا قتل ایک افسوسناک سانحہ ہے جو فتنتہ الہندوستان کی کھلی دہشتگردی ہے۔ ایسے بزدلانہ اقدامات سے قوم کے حوصلے پست نہیں کیے جا سکتے۔
انہوں نے کہا کہ بے گناہ افراد کے خون کا بدلہ لیا جائے گا۔ عزم، اتحاد اور طاقت سے دہشت گردی کے ناسور سے نمٹیں گے اور اس کو جڑ سے اکھاڑ کر دم لیں گے۔






















Comments
Comments are closed.