BR100 Increased By (0.24%)
BR30 Increased By (0.44%)
KSE100 Increased By (0.35%)
KSE30 Increased By (0.25%)
BAFL 58.19 Increased By ▲ 0.03 (0.05%)
BIPL 27.32 Increased By ▲ 0.09 (0.33%)
BOP 34.70 Increased By ▲ 0.30 (0.87%)
CNERGY 13.80 Increased By ▲ 0.69 (5.26%)
DFML 18.56 Increased By ▲ 0.16 (0.87%)
DGKC 217.25 Increased By ▲ 3.59 (1.68%)
FABL 99.81 Increased By ▲ 0.25 (0.25%)
FCCL 57.80 Decreased By ▼ -0.26 (-0.45%)
FFL 16.51 Increased By ▲ 0.28 (1.73%)
GGL 24.14 Increased By ▲ 0.16 (0.67%)
HBL 335.25 Decreased By ▼ -2.91 (-0.86%)
HUBC 213.70 Increased By ▲ 0.34 (0.16%)
HUMNL 10.68 Increased By ▲ 0.10 (0.95%)
KEL 7.45 Increased By ▲ 0.02 (0.27%)
LOTCHEM 27.63 Decreased By ▼ -0.04 (-0.14%)
MLCF 102.60 Decreased By ▼ -0.15 (-0.15%)
OGDC 319.98 Increased By ▲ 1.06 (0.33%)
PAEL 42.90 Decreased By ▼ -0.20 (-0.46%)
PIBTL 16.59 Decreased By ▼ -0.04 (-0.24%)
PIOC 274.50 Increased By ▲ 1.50 (0.55%)
PPL 231.20 Increased By ▲ 1.75 (0.76%)
PRL 76.75 Increased By ▲ 5.95 (8.4%)
SNGP 103.58 Decreased By ▼ -1.00 (-0.96%)
SSGC 27.15 Decreased By ▼ -0.26 (-0.95%)
TELE 8.54 Increased By ▲ 0.01 (0.12%)
TPLP 15.55 Decreased By ▼ -0.21 (-1.33%)
TRG 60.50 Increased By ▲ 0.21 (0.35%)
UNITY 11.59 Decreased By ▼ -0.13 (-1.11%)
WTL 1.21 Increased By ▲ 0.01 (0.83%)

ایکوپیک لمیٹڈ نے پائیدار توانائی کے استعمال کی جانب ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے 2 میگاواٹ (ایم ڈبلیو) کا سولر سسٹم نصب کرنے کے منصوبے کا اعلان کیا ہے۔

لسٹڈ کمپنی جو مشروبات اور دیگر مائع مصنوعات کی پیکیجنگ کے لیے پولی تھیلین ٹیرفتھیلیٹ (پی ای ٹی) بوتلوں اور پریفارمز کی تیاری و فروخت سے وابستہ ہے نے پیر کو اسٹاک ایکسچینج کو جاری کردہ اپنے نوٹس میں اس پیش رفت کا انکشاف کیا۔

نوٹس میں کہا گیا کہ بورڈ نے 3.63 ایکڑ زمین کے حصول اور 2.03 میگاواٹ صلاحیت کے سولر پاور جنریشن سسٹم کی تنصیب کے لیے کیپٹل ایکسپنڈیچر (سی اے پی ای ایکس) کی منظوری دے دی ہے۔

واضح رہے کہ چند روز قبل غریبوال سیمنٹ لمیٹڈ نے اپنے پلانٹ پر اضافی 12.5 میگاواٹ سولر پاور سسٹم کامیابی سے فعال کردیا۔

اگرچہ پاکستان ایک کم آمدنی والا ملک ہے جو معاشی و سماجی مسائل سے دوچار ہے مگر اس کے باوجود یہاں ایک خاموش سبز انقلاب برپا ہورہا ہے اور یہ جنوبی ایشیائی ملک تیزی سے ترقی کرتی سولر انڈسٹری کے لیے دنیا کی بڑی منڈیوں میں سے ایک بن کر ابھرا ہے۔

برطانیہ کے توانائی تھنک ٹینک ایمبر کی جاری کردہ گلوبل الیکٹریسٹی ریویو 2025 کے مطابق، پاکستان نے سال 2024 میں 17 گیگاواٹ کے سولر پینلز درآمد کیے جس سے وہ نمایاں سولر توانائی استعمال کرنے والے ممالک کی صف میں شامل ہوگیا ہے۔

سولر توانائی کے اس بڑھتے ہوئے رجحان نے پالیسی سازوں کو اس کے قومی گرڈ اور توانائی کے شعبے پر ممکنہ اثرات کے حوالے سے تشویش میں مبتلا کر دیا ہے، کیونکہ بجلی کا مجموعی استعمال جمود کا شکار ہے۔

اس کے جواب میں وفاقی حکومت نے مالی سال 2025-26 کے بجٹ میں درآمدی سولر پینلز پر 18 فیصد سیلز ٹیکس عائد کردیا۔

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے قومی اسمبلی میں بجٹ تقریر کے دوران کہا کہ مجوزہ ٹیکس مقامی صنعت کو ترقی دینے میں مددگار ثابت ہوگا۔

تاہم، حکومت نے اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد فیصلہ کیا کہ جنرل سیلز ٹیکس کو کم کر کے 10 فیصد کر دیا جائے گا۔

یہ پیش رفت ملک میں سولر توانائی کے بڑھتے رجحان کے تناظر میں سامنے آئی ہے جہاں پاکستان اکنامک سروے 2024-25 کے مطابق 31 مارچ 2025 تک نیٹ میٹرنگ کی صلاحیت 2,813 میگاواٹ تک پہنچ چکی ہے۔

Comments

Comments are closed.