ٹی آر جی پر کنٹرول کی جنگ، ضیا چشتی کو سندھ ہائی کورٹ سے بڑا ریلیف
- ٹی آر جی پاکستان کا کہنا ہے کہ قانونی آپشنز کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس)میں لسٹڈ معروف ٹیکنالوجی کمپنی ٹی آر جی پاکستان لمیٹڈ کے کنٹرول پر جاری تنازع نے ایک نیا موڑ لے لیا ہے۔ کمپنی کے سابق سی ای او ضیاء چشتی کی جانب سے دائر کردہ کمپنی پٹیشن پر سندھ ہائی کورٹ کے حکم کے بعد صورتحال تبدیل ہوئی ہے،سابق سی ای او ضیا چشتی نے جنوری 2025 میں کمپنی کے سب سے بڑے شیئر ہولڈر، برمودا میں قائم گرین ٹری ہولڈنگز لمیٹڈ کے اعلان کردہ ٹینڈر کو چیلنج کیا تھا۔
یہ ٹینڈر پاکستانی شیئر ہولڈرز کو ٹی آر جی پاکستان کے شیئرز کے بدلے 5 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کی ادائیگی سے متعلق تھا، تاہم پٹیشن کی سماعت تک اسے روک دیا گیا ہے۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ کمپنی نے کمپنیز ایکٹ کی دفعہ 286 کی خلاف ورزی کی، جو شیئر ہولڈرز کے حقوق کی خلاف ورزی سے متعلق ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ گرین ٹری ہولڈنگز کے ذریعے ٹی آر جی پاکستان کے شیئرز کی خریداری میں شیئر ہولڈرز کے ساتھ زیادتی ہوئی۔
عدالت نے گرین ٹری ہولڈنگز کے ٹینڈر کو منسوخ کر دیا، اس کے شیئرز کو ٹی آر جی پاکستان کے ٹریژری شیئرز میں تبدیل کرنے کا حکم دیا، اور کمپنی کے بورڈ انتخابات کرانے کی ہدایت دی۔
اگر ٹینڈر مکمل ہو جاتا تو گرین ٹری ہولڈنگز کو کمپنی پر کنٹرول حاصل ہو جاتا اور دیگر شیئر ہولڈرز کو نکلنے کا موقع مل جاتا۔
اس حوالے سے پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو جاری نوٹس میں ٹی آر جی نے کہا کہ عدالت کے حکم میں متعدد بے ضابطگیاں اور قانونی سقم“ ہیں اور وہ سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرنے پر غور کر رہی ہے۔
مارکیٹ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ کمپنی یہ فیصلہ چیلنج کرے گی۔
مارکیٹ مبصرین نے اس فیصلے پر مایوسی کا اظہار کیا کیونکہ ٹینڈر کے ذریعے شیئر ہولڈرز کو موجودہ قیمت سے تقریباً 40 فیصد زائد قیمت پر فروخت کا موقع مل رہا تھا۔
فیصلے کی خبر پر کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں 12 فیصد کمی واقع ہوئی، جس کی وجہ مستقبل کے امکانات میں غیر یقینی صورتحال کو قرار دیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ 2021 کے اواخر سے ٹی آر جی انتظامیہ اور ضیاء چشتی کے درمیان کمپنی پر کنٹرول کے حصول کی جنگ جاری ہے۔
ضیا چشتی نے امریکی کانگریس میں پیش کردہ گواہی میں جنسی ہراسانی کے ایک مقدمے میں اپنے خلاف 50 لاکھ ڈالر کا ہرجانہ دیے جانے کے انکشاف کے بعد کمپنی کے سی ای او کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔
ٹی آر جی کی موجودہ انتظامیہ کا موقف ہے کہ ضیا چشتی کی کمپنی سے کسی بھی وابستگی سے کمپنی کی ساکھ اور اثاثے متاثر ہوں گے۔
ضیا چشتی نے اس کے بعد کئی ہتک عزت کے مقدمے دائر کیے۔ امریکہ میں سابق ملازمہ کے خلاف مقدمہ عدالت نے خارج کر دیا۔ برطانیہ میں اخبار دی ٹیلی گراف کے خلاف ہتک عزت کا دعویٰ کیا، جس کا مارچ 2025 میں اخبار نے معذرت کے ساتھ تصفیہ کیا۔
پاکستان میں بھی ضیا چشتی نے ٹی آر جی کی انتظامیہ کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ دائر کیا، جس پر سپریم کورٹ نے عبوری حکم امتناع جاری کیا ہوا ہے۔
اس عدالتی فیصلے کے دوران ضیا چشتی شدید مالی دباؤ کا شکار بھی ہیں۔
جنوری 2025 میں وہ ٹی آر جی انٹرنیشنل کی جانب سے دائر ثالثی مقدمے میں ہار گئے، جس میں انہوں نے جے ایس بینک سے قرض لینے کے لیے ٹی آر جی پاکستان کے شیئرز بطور ضمانت رکھے تھے۔
اس ثالثی میں انہیں 90 لاکھ ڈالر کی ادائیگی کا حکم دیا گیا، جسے امریکی وفاقی عدالت نے نافذ کرنے کی منظوری دے دی ہے۔
ضیا چشتی جنوری 2025 میں جے ایس بینک سے 3 ارب روپے کے قرض پر بھی نادہندہ ہو چکے ہیں۔ بینک نے ان کے شیئرز ضبط کرنے کی کوشش کی، لیکن ثالثی فیصلے سے متعلق سٹے آرڈرز کی وجہ سے یہ ممکن نہ ہو سکا۔
مزید یہ کہ حالیہ انکشافات کے مطابق امریکی ٹیکس ادارے انٹرنل ریونیو سروس نے ضیا چشتی کی جائیداد پر 1 کروڑ ڈالر کا ٹیکس لیئن لگا دیا ہے۔
ان تمام حقائق کے تناظر میں ماہرین نے ملک کی سرکردہ ٹیکنالوجی کمپنی میں جاری اس بحرانی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ٹینڈر کا مقصد کمپنی کے مستقبل سے متعلق غیر یقینی صورتحال ختم کرنا تھا، لیکن تازہ عدالتی حکم نے تنازع کو مزید بڑھا دیا ہے۔




















Comments
Comments are closed.