گولڈمین سیکس نے اپنے نوٹ میں خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی ممکنہ خلل کے باعث عالمی توانائی کی فراہمی کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں تیل اور قدرتی گیس کی قیمتیں غیر معمولی حد تک بڑھ سکتی ہیں۔
بینک نے اپنے نوٹ میں اندازہ ظاہر کیا کہ اگر آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل ایک ماہ کے لیے نصف رہ جائے اور اس کے بعد گیارہ ماہ تک 10 فیصد کم سطح پر برقرار رہے تو برینٹ کروڈ کی قیمت عارضی طور پر 110 ڈالر فی بیرل تک جا سکتی ہے۔
بعد ازاں قیمتوں میں کچھ اعتدال آ جائے گا اور 2025 کی چوتھی سہ ماہی میں برینٹ کی اوسط قیمت تقریباً 95 ڈالر فی بیرل رہنے کا امکان ہے۔
پیر کو خام تیل کی قیمتیں جنوری کے بعد کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں جب واشنگٹن نے ہفتے کے اختتام پر ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے میں اسرائیل کا ساتھ دیا۔
گولڈمین نے اپنی رپورٹ میں اس جانب توجہ دلائی کہ، اگرچہ پیش گوئی کی منڈیوں میں لیکویڈٹی محدود ہے لیکن پولی مارکیٹ کے اعداد و شمار کے مطابق اب ان میں 2025 میں ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز بند کیے جانے کے امکان کو 52 فیصد تک ظاہر کیا جارہا ہے۔
بینک نے مزید نشاندہی کی کہ اگر ایرانی تیل کی سپلائی میں روزانہ 17.5 لاکھ بیرل کی کمی واقع ہو تو برینٹ کروڈ کی قیمت عروج پر پہنچ کر تقریباً 90 ڈالر فی بیرل ہوسکتی ہے۔
ایک منظرنامے میں بینک کا کہنا تھا کہ اگر ایرانی تیل کی یومیہ پیداوار میں چھ ماہ کے لیے 17.5 لاکھ بیرل کی کمی آئے اور اس کے بعد بتدریج بحالی شروع ہو تو برینٹ کی قیمت عارضی طور پر 90 ڈالر فی بیرل تک جا سکتی ہے جس کے بعد 2026 تک یہ قیمت 60 ڈالر کی حد تک گرسکتی ہے۔
گولڈمین کے مطابق دوسرے ذیلی منظرنامے میں جہاں ایرانی پیداوار مستقل طور پر کم سطح پر برقرار رہتی ہے وہاں برینٹ کی قیمت اگرچہ 90 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے، تاہم کم ذخائر اور عالمی اضافی پیداواری گنجائش کی وجہ سے 2026 تک قیمتیں 70 سے 80 ڈالر فی بیرل کے درمیان مستحکم ہوسکتی ہیں۔
اگرچہ مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال مسلسل تغیر پذیر ہے لیکن ہمارا خیال ہے کہ آبنائے ہرمز میں طویل المدتی اور بڑے پیمانے پر خلل کو روکنے کیلئے اقتصادی محرکات — جن میں امریکہ اور چین بھی شامل ہیں — خاصے مضبوط ہونگے۔
ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے پریس ٹی وی نے اتوار کو بتایا کہ امریکی بمباری کے بعد آبنائے ہرمز کو بند کرنے کے فیصلے کا حتمی اختیار ایران کی اعلیٰ قومی سلامتی کونسل کے پاس ہے جب کہ اس سے قبل اطلاعات آئی تھیں کہ ایرانی پارلیمنٹ نے اس اقدام کی حمایت کی ہے۔
گولڈمین سیکس نے پیش گوئی کی ہے کہ یورپی قدرتی گیس کی منڈیاں، جن میں ٹی ٹی ایف بینچ مارک بھی شامل ہے، ممکنہ خلل کے امکانات کو زیادہ شدت سے قیمتوں میں شامل کریں گی اور ٹی ٹی ایف کی قیمت ممکنہ طور پر 74 یورو فی میگاواٹ گھنٹہ (تقریباً 25 ڈالر فی ایم ایم بی ٹو یو) تک جا سکتی ہے۔
تاہم بینک نے یہ بھی نوٹ کیا کہ امریکی قدرتی گیس کی قیمتوں پر اس صورتحال کا اثر محدود رہے گا، کیونکہ ملک کی مضبوط برآمدی صلاحیت اور مقامی سطح پر ایل این جی کی درآمد کی کم ضرورت جیسے ساختی عوامل اسے تحفظ فراہم کرتے ہیں۔


























Comments
Comments are closed.