حکومت پاکستان نے منگل کے روز پیش کیے گئے سالانہ وفاقی بجٹ کے تحت اقتصادی ترقی میں نمایاں اضافہ کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے تاہم تجزیہ کاروں نے اہداف کے حصول کیلئے متعلقہ اداروں کی صلاحیتوں پر شکوک و شبہات ظاہر کیے ہیں۔
بجٹ کا ہدف بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی منظور کردہ اصلاحات کے تحت زیادہ ریونیو جمع کرنا اور مالیاتی خسارے میں نمایاں کمی لانا ہے تاہم گزشتہ ماہ بھارت کے ساتھ تنازع کے بعد دفاعی اخراجات میں 20 فیصد اضافہ کیا گیا ہے جس میں ملٹری پنشن شامل نہیں۔
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بدھ کے روز پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس میں بتایا کہ خام مال اور درمیانے درجے کی ہزاروں مصنوعات پر کسٹمز ڈیوٹی میں کمی کی گئی ہے یا مکمل طور پر ختم کر دی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں مقامی صنعت کو مسابقتی بننا ہوگا اور یہ اس قدر مسابقتی ہو کہ مصنوعات برآمد کی جاسکے۔
تاہم ترقی کو فروغ دینے والے عوامل ابھی تک واضح نہیں ہیں۔ حکومت مالی سال 2026 میں 4.2 فیصد جی ڈی پی ترقی کا ہدف رکھتی ہے، جو اس سال کی 2.7 فیصد شرح سے زیادہ ہے۔ موجودہ سال کا ابتدائی ہدف 3.6 فیصد تھا لیکن زراعت اور بڑے پیمانے پر صنعت کی کمزور کارکردگی کے باعث اسے کم کر دیا گیا۔
آکسفورڈ اکنامکس کی سینئر ماہرِ معیشت کیلی ڈیوس نے کہا کہ پاکستان کی 4.2 فیصد جی ڈی پی گروتھ کی پیش گوئی حالیہ کارکردگی کو مدنظر رکھتے ہوئے کافی حدتک غیر حقیقی لگتی ہے اور حد سے زیادہ مثبت اندازے ٹیکس اہداف کو ناقابلِ حصول بنا سکتے ہیں۔
پاکستان میں ماضی کی اقتصادی ترقی کے ادوار زیادہ تر صرف خرچ (کنزمپشن) پر مبنی تھے جن کے نتیجے میں توازنِ ادائیگی کے بحرانات پیدا ہوئے اور حکومتوں کو بارہا آئی ایم ایف سے بیل آؤٹ لینا پڑا۔ تاہم، حکومت کا کہنا ہے کہ اب وہ معیاری اور سرمایہ کاری پر مبنی ترقی کی طرف بڑھنا چاہتی ہے۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ ساختی اصلاحات جاری ہیں اور انہوں نے مشرقی ایشیا کی طرز پر مارکیٹ دوست تبدیلیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ پاکستان کے لیے مشرقی ایشیا جیسا لمحہ ہے۔
17.57 کھرب روپے (62.24 ارب ڈالر) کا بجٹ اس وقت پیش کیا گیا ہے جب پاکستان نے حال ہی میں 7 ارب ڈالر کا قرض پروگرام حاصل کیا ہے۔
محصولات میں 14 فیصد سے زائد اضافے کی توقع کی جا رہی ہے، جو نئے ٹیکسوں اور ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے کے ذریعے حاصل کیے جائیں گے۔
مالیاتی خسارے کا ہدف جی ڈی پی کے 3.9 فیصد پر رکھا گیا ہے جو اس سال کے 5.9 فیصد سے نمایاں طور پر کم ہے۔
اہم اصلاحات میں زراعت، جائیداد کی خرید و فروخت اور ریٹیل سیکٹر پر ٹیکس عائد کرنا اور رک جانے والی نجکاریوں کو دوبارہ شروع کرنا شامل ہے۔ تاہم، اس سال محصول کی کمی نے شبہات پیدا کر دیے ہیں کیونکہ زراعت پر انکم ٹیکس اور ریٹیل کی آمدنی دونوں اپنے ہدف سے پیچھے رہ گئے ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق صرف 1.3 فیصد آبادی نے 2024 میں انکم ٹیکس ادا کیا۔
ہسنین ملک ہیڈ آف ایکویٹی اسٹریٹیجی، ٹیلیمر نے کہا کہ پاکستان کا بجٹ آئی ایم ایف اور سرمایہ کاروں کو خوش کرنے کیلئے ہے چاہے اس کے نتیجے میں قریبی مدت میں ترقی اثرا انداز ہو۔ انہوں نے مزید کہا کہ سیاسی نظام، جہاں فوج کا مضبوط کنٹرول ہے، احتجاج کے خطرے کو بھی کم کرتا ہے۔
اگرچہ مجموعی اخراجات میں 7 فیصد کمی آئے گی، لیکن دفاعی بجٹ میں اضافہ ہوگا، خاص طور پر جوہری ہتھیار رکھنے والے پڑوسیوں کے درمیان دہائیوں کے بدترین جنگ کے بعد۔ پنشنز سمیت دفاعی اخراجات 12 ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گے جو وفاقی بجٹ کا 19 فیصد یا جی ڈی پی کا 2.5 فیصد ہے جو ورلڈ بینک کے مطابق بھارت کے برابر ہے۔
اس اضافے کی اجازت سود کی ادائیگیوں میں تیز کمی سے ممکن ہوئی کیونکہ گزشتہ سال کے دوران مرکزی بینک نے پالیسی شرح سود کو 22 فیصد سے 11 فیصد تک کم کیا ہے جس سے ملکی قرضوں کی ادائیگیاں آسان ہوئیں۔ اورنگزیب نے کہا کہ سبسڈی میں کمی نے بھی مالیاتی گنجائش پیدا کرنے میں مدد دی ہے۔



















Comments
Comments are closed.