بھارتی وزیر دفاع نے خبردار کیا ہے کہ اگر آئندہ پاکستان کی جانب سے کوئی جارحیت ہوئی تو بھارت اس کا جواب اپنی بحریہ کی طاقت سے دے گا، ان کا یہ بیان بھارت اور پاکستان کے درمیان حالیہ کشیدگی اور کئی دہائیوں کی شدید ترین جھڑپوں کے بعد سامنے آیا ہے۔
رواں ماہ 4 روزہ شدید لڑائی کے بعد سے پاکستان اور بھارت کے تعلقات کشیدہ ہیں، لڑائی میں لڑاکا طیارے، میزائل اور ڈرونز کا استعمال ہوا اور بعد میں جنگ بندی کا اعلان کیا گیا۔
وزیرِ دفاع راج ناتھ سنگھ نے مغربی ریاست گوا کے ساحل سے کچھ فاصلے پر طیارہ بردار بحری جہاز آئی این ایس وکرانت پر کہا کہ اگر پاکستان نے کسی بھی غیر اخلاقی حرکت کا ارتکاب کیا تو اسے اس دفعہ بھارتی بحریہ کی زبردست طاقت اور سخت ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔
پاک فوج کے ایک ترجمان نے رائٹرز کو 12 مئی کے ایک بیان کا حوالہ دیا جس میں کہا گیا تھا کہ جب بھی پاکستان کی خودمختاری کو خطرہ لاحق ہوا اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی کی گئی تو جامع اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔
یاد رہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان جھڑپوں کا آغاز 22 اپریل کو پہلگام حملے کے بعد ہوا جس میں 26 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ نئی دہلی نے اس حملے کا الزام پاکستان پر عائد کیا تاہم پاکستان نے اس الزام کی تردید کی تھی۔
10 مئی کو جنگ بندی کا اعلان ہوا اور ایک اعلیٰ پاکستانی فوجی اہلکار نے رائٹرز کو بتایا کہ دونوں ممالک اپنی سرحدی افواج کو دوبارہ اپنی ابتدائی پوزیشنز پر واپس لانے کے قریب ہیں۔
بھارتی بحریہ نے کہا ہے کہ اُس نے 22 اپریل کے حملے کے 96 گھنٹوں کے اندر شمالی بحیرۂ عرب میں اپنا کیریئر بیٹل گروپ، آبدوزیں اور دیگر فضائی وسائل تعینات کردیے تھے۔
بھارتی وزیرِ دفاع راج ناتھ سنگھ نے کہا ہے کہ آپریشن سندور کے تحت پاکستان پر کیے گئے حملے فی الحال روک دیے گئے ہیں مگر یہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے اپنی فوجی کارروائیاں اپنی شرائط پر روکی ہیں۔ ہماری افواج نے تو ابھی اپنی اصل طاقت دکھانا شروع بھی نہیں کی تھی۔
























Comments
Comments are closed.