صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تجارتی جنگ نے کمپنیوں کو فروخت میں کمی اور لاگت میں اضافے کی صورت میں 34 ارب ڈالر سے زائد کا نقصان پہنچایا ہے، جیسا کہ رائٹرز نے کمپنیوں کے مالیاتی انکشافات کا تجزیہ کرتے ہوئے رپورٹ کیا۔ یہ نقصان مزید بڑھنے کا امکان ہے کیونکہ ٹیرف (ٹیرف یعنی درآمدی محصولات) سے متعلق غیر یقینی صورت حال دنیا کی چند بڑی کمپنیوں کے فیصلے کرنے کی صلاحیت کو مفلوج کر رہی ہے۔
امریکا، ایشیا اور یورپ میں ایپل، فورڈ، پورشے اور سونی سمیت متعدد کمپنیوں نے یا تو اپنی منافع کی پیش گوئیاں واپس لے لی ہیں یا کم کر دی ہیں۔ ان میں سے اکثریت کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی تجارتی پالیسیوں کی غیر مستقل نوعیت کے باعث اخراجات کا درست اندازہ لگانا ناممکن ہو گیا ہے۔
رائٹرز نے کمپنی بیانات، ریگولیٹری دستاویزات، کانفرنس کالز اور میڈیا ٹرانسکرپٹس کا جائزہ لے کر پہلی بار عالمی سطح پر کاروبار پر ٹیرف کے اثرات کی تصویر پیش کی ہے۔
یہ 34 ارب ڈالر کا تخمینہ امریکہ کے ایس اینڈ پی 500 انڈیکس کی 32، یورپ کے اسٹاکس یورپ 600 کی 3 اور جاپان کی نکئی 225 کی 21 کمپنیوں کے اعداد و شمار پر مشتمل ہے۔ ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ کمپنیوں نے جو نقصان ظاہر کیا ہے، اصل نقصان اس سے کہیں زیادہ ہو سکتا ہے۔
اییل اسکول آف مینجمنٹ کے پروفیسر جیفری سونن فیلڈ کا کہنا ہے کہ آپ اس نقصان کو دو یا تین گنا بڑھا لیں، تب بھی ہم کہیں گے کہ اصل وسعت کا اندازہ ابھی لوگوں کو نہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس کے مضمرات اس سے بھی زیادہ سنگین ہو سکتے ہیں، جیسے کہ صارفین اور کاروباروں کی کم خریداری، اور مہنگائی کی بلند توقعات۔
اگرچہ حالیہ دنوں میں چین اور امریکہ کے درمیان تجارتی کشیدگی میں کچھ نرمی آئی ہے، اور ٹرمپ نے یورپ کے خلاف نئے ٹیرف کی دھمکی واپس لے لی ہے، تاہم اب بھی یہ واضح نہیں کہ حتمی تجارتی معاہدے کیسا ہوگا۔
ایک امریکی تجارتی عدالت نے بدھ کے روز ٹرمپ کے مجوزہ ٹیرف کے نفاذ کو روک دیا۔ اس غیر یقینی ماحول میں ماہرین کا کہنا ہے کہ کمپنیاں اپنی سپلائی چین کو مضبوط بنانے، قریبی ممالک میں پیداوار منتقل کرنے اور نئی مارکیٹوں کو ترجیح دینے کی کوشش کریں گی، جو کہ لاگت میں مزید اضافہ کرے گا۔
تاہم کمپنیاں بھی حتمی اخراجات کے حوالے سے غیر یقینی کا شکار ہیں۔
جیسے جیسے کمپنیوں کی سہ ماہی آمدنی کے اعلانات مکمل ہو رہے ہیں، رائٹرز نے پایا کہ کم از کم 42 کمپنیوں نے اپنی پیش گوئیاں کم کی ہیں اور 16 نے مکمل طور پر اپنی پیش گوئی واپس لے لی ہے۔
مثال کے طور پر، رواں ماہ کے آغاز میں وال مارٹ نے سہ ماہی منافع کی پیش گوئی دینے سے انکار کر دیا اور قیمتیں بڑھانے کا اعلان کیا، جس پر صدر ٹرمپ نے تنقید کی۔
یورپی کار ساز کمپنی وولوو، جو امریکی ٹیرف سے سب سے زیادہ متاثر ہے، نے آئندہ دو سال کے لیے اپنی آمدنی کی پیش گوئی واپس لے لی، جبکہ یونائیٹڈ ایئرلائنز نے دو مختلف تخمینے پیش کیے، یہ کہتے ہوئے کہ موجودہ عالمی ماحول میں کسی حتمی اندازے تک پہنچنا ممکن نہیں۔
ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ٹیرف سے امریکہ کا تجارتی خسارہ کم ہو گا اور کمپنیاں اپنی پیداوار امریکہ منتقل کریں گی، جس سے روزگار کے مواقع بڑھیں گے۔ ان کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ ٹیرف میکسیکو سمیت دیگر ممالک کو امریکہ میں غیر قانونی امیگریشن اور منشیات کی ترسیل روکنے پر مجبور کریں گے۔
وائٹ ہاؤس کے ترجمان کش دیسائی کا کہنا تھا کہ انتظامیہ کا ہمیشہ یہ مؤقف رہا ہے کہ امریکہ کے پاس وہ طاقت ہے کہ وہ اپنے تجارتی شراکت داروں کو بالآخر ٹیرف کے اخراجات برداشت کرنے پر مجبور کر دے۔
ٹیرف کا ذکر
جنوری تا مارچ کی سہ ماہی کے آمدنی اعلامیوں میں، ایس اینڈ پی 500 انڈیکس کی 72 فیصد (یعنی 360) کمپنیوں نے ٹیرف کا ذکر کیا، جو کہ گزشتہ سہ ماہی میں 30 فیصد (یعنی 150 کمپنیوں) کی نسبت دوگنا سے بھی زیادہ ہے۔
یورپ کی اسٹاکس 600 کی 219 کمپنیوں نے ٹیرف پر بات کی، جو پچھلی سہ ماہی کی 161 کمپنیوں سے زیادہ ہے۔ جاپان کی نِکّی 225 کی 58 کمپنیوں نے ٹیرف کا ذکر کیا، جبکہ پچھلی سہ ماہی میں یہ تعداد صرف 12 تھی۔
ریچرڈ برن اسٹین ایڈوائزرز (نیو یارک) کے سی ای او رِچ برن اسٹین نے کہا کہ مجھے نہیں لگتا کہ آج کل کمپنیاں مستقبل کے بارے میں کچھ واضح طور پر دیکھ پا رہی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب پیش گوئیاں ہی نہ کی جا سکیں، تو بہتر یہی ہے کہ گائیڈنس نہ دی جائے۔
وال اسٹریٹ کے مطابق، ایس اینڈ پی 500 کی کمپنیوں کے منافع میں اپریل تا دسمبر کے درمیان اوسطاً 5.1 فیصد اضافہ متوقع ہے، جبکہ گزشتہ سال یہ شرح 11.7 فیصد تھی۔
خودکار ساز ادارے، ایئر لائنز اور صارفین کی مصنوعات درآمد کرنے والے ادارے اس بحران سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ خام مال اور پرزوں پر اضافی لیویز، جیسے ایلومینیم اور الیکٹرانکس، کے باعث گاڑیوں کی تیاری مزید مہنگی ہو گئی ہے۔ اور اگر پیداوار امریکہ منتقل کی جائے تو مزدوری کے اخراجات مزید بڑھیں گے۔
ٹشو بنانے والی کمپنی کیمبرلی کلارک نے گزشتہ ماہ اپنا سالانہ منافع کم کر دیا اور کہا کہ ٹیرف کے باعث اسے 300 ملین ڈالر کی اضافی لاگت آئے گی۔ چند دن بعد کمپنی نے اعلان کیا کہ وہ آئندہ پانچ سالوں میں امریکہ میں اپنی پیداواری صلاحیت بڑھانے کے لیے 2 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گی—یہ رقم رائٹرز کے تخمینے میں شامل نہیں۔
ایپل اور ایلی للی جیسی کمپنیوں نے بھی اس سال امریکہ میں سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہے۔
جاننی واکر وہسکی اور ڈان ہولیو ٹیکیلا بنانے والی کمپنی ڈیاجیو نے اس ماہ کے آغاز میں کہا کہ وہ 2028 تک 500 ملین ڈالر کی لاگت کم کرے گی اور اپنے کئی اثاثے فروخت کرے گی، کیونکہ 10 فیصد ٹیرف نے اس کے اخراجات کو بڑھا دیا ہے۔
























Comments
Comments are closed.