BR100 Decreased By (-1.5%)
BR30 Decreased By (-1.09%)
KSE100 Decreased By (-0.85%)
KSE30 Decreased By (-1.47%)
BAFL 58.90 Decreased By ▼ -0.13 (-0.22%)
BIPL 24.00 Decreased By ▼ -0.11 (-0.46%)
BOP 31.26 Decreased By ▼ -0.44 (-1.39%)
CNERGY 12.24 Increased By ▲ 0.18 (1.49%)
DFML 15.82 Increased By ▲ 0.27 (1.74%)
DGKC 200.84 Decreased By ▼ -2.35 (-1.16%)
FABL 92.11 Decreased By ▼ -1.03 (-1.11%)
FCCL 57.80 Decreased By ▼ -0.91 (-1.55%)
FFL 13.35 Decreased By ▼ -0.12 (-0.89%)
GGL 19.51 Decreased By ▼ -0.40 (-2.01%)
HBL 301.50 Decreased By ▼ -1.26 (-0.42%)
HUBC 202.00 Decreased By ▼ -6.05 (-2.91%)
HUMNL 8.61 Decreased By ▼ -0.08 (-0.92%)
KEL 6.10 Decreased By ▼ -0.04 (-0.65%)
LOTCHEM 24.47 Decreased By ▼ -0.35 (-1.41%)
MLCF 99.90 Decreased By ▼ -2.19 (-2.15%)
OGDC 313.70 Decreased By ▼ -2.54 (-0.8%)
PAEL 33.60 Decreased By ▼ -0.42 (-1.23%)
PIBTL 13.19 Decreased By ▼ -0.23 (-1.71%)
PIOC 259.89 Decreased By ▼ -5.55 (-2.09%)
PPL 218.00 Decreased By ▼ -3.30 (-1.49%)
PRL 86.20 Increased By ▲ 1.60 (1.89%)
SNGP 92.15 Decreased By ▼ -1.70 (-1.81%)
SSGC 22.66 Decreased By ▼ -0.28 (-1.22%)
TELE 7.12 Increased By ▲ 0.05 (0.71%)
TPLP 13.28 Increased By ▲ 0.17 (1.3%)
TRG 53.40 Decreased By ▼ -0.63 (-1.17%)
UNITY 8.05 Increased By ▲ 0.15 (1.9%)
WTL 1.04 Increased By ▲ 0.10 (10.64%)
دنیا

امریکی عدالت نے صدر ٹرمپ کو ٹیرف عائد کرنے سے روک دیا، اختیارات سے تجاوز قرار

  • ٹرمپ انتظامیہ نے اپیل کرتے ہوئے عدالت کے اختیار پر سوال اٹھادیا
شائع اپ ڈیٹ

امریکی عدالت برائے بین الاقوامی تجارت نے بدھ کے روز صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے درآمدی اشیاء پر عائد کیے گئے ٹیرف کالعدم کر دیے، اور اپنے فیصلے میں کہا کہ صدر نے ان اختیارات سے تجاوز کیا جو آئین نے انہیں نہیں دیے۔

تین رکنی بینچ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ امریکی آئین کے مطابق بین الاقوامی تجارت کو ریگولیٹ کرنے کا اختیار صرف کانگریس کے پاس ہے، جسے صدر کے ایمرجنسی اختیارات بھی ختم نہیں کر سکتے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ عدالت صدر کے ٹیرف کے مؤثر یا غیر مؤثر ہونے پر کوئی رائے نہیں دیتی، بلکہ یہ کہ موجودہ قانون انہیں اس اقدام کی اجازت نہیں دیتا۔

فیصلے کے فوراً بعد ٹرمپ انتظامیہ نے اپیل دائر کر دی اور عدالت کے دائرہ اختیار پر سوال اٹھایا۔ عدالت کے فیصلے کو فیڈرل سرکٹ کورٹ اور بالآخر سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جا سکتا ہے۔

صدر ٹرمپ نے عالمی تجارتی خسارے کو کم کرنے، مقامی صنعت کو فروغ دینے اور ملازمتیں واپس امریکہ لانے کے لیے ٹیرف کو اپنی معاشی پالیسی کا مرکزی ستون بنایا تھا۔ لیکن عدالت نے کہا کہ وہ یکطرفہ طور پر درآمدات پر ٹیرف عائد نہیں کر سکتے۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے ردِعمل میں کہا کہ تجارتی خسارے نے امریکی صنعت، مزدوروں اور دفاعی پیداوار کو نقصان پہنچایا ہے، اور عدالت نے ان حقائق کو چیلنج نہیں کیا۔ ترجمان کش دیسائی نے کہا غیر منتخب جج یہ فیصلہ نہیں کر سکتے کہ قومی ایمرجنسی کا حل کیا ہونا چاہیے۔

مالیاتی منڈیوں نے عدالت کے فیصلے کا خیرمقدم کیا۔ امریکی ڈالر کی قدر میں اضافہ ہوا، جبکہ وال اسٹریٹ اور ایشیائی مارکیٹس میں بھی مثبت رجحان دیکھا گیا۔

یہ فیصلہ دو مقدمات میں سنایا گیا، جن میں ایک پانچ امریکی چھوٹے درآمد کنندگان نے جبکہ دوسرا 13 ریاستوں نے دائر کیا تھا۔ عدالت نے کہا کہ اگر یہ ٹیرف غیرقانونی ہیں تو یہ سب پر لاگو نہیں ہو سکتے۔

اوریگون کے اٹارنی جنرل ڈین رے فیلڈ نے کہا کہ صدر کے ٹیرف غیرقانونی، غیرذمہ دارانہ اور معاشی طور پر نقصان دہ ہیں۔ یہ فیصلہ ثابت کرتا ہے کہ ہمارے قوانین اہمیت رکھتے ہیں، اور تجارتی فیصلے کسی ایک فرد کی خواہش پر نہیں کیے جا سکتے۔

ٹرمپ نے بین الاقوامی ایمرجنسی اکنامک پاورز ایکٹ کے تحت وسیع اختیارات کا دعویٰ کیا، جو ماضی میں صرف دشمن ممالک پر پابندیاں لگانے کے لیے استعمال ہوا تھا۔ یہ پہلا موقع تھا جب کسی صدر نے اسے ٹیرف کے لیے استعمال کیا۔

ٹرمپ انتظامیہ نے اپنے مؤقف میں کہا کہ متاثرہ فریقوں نے ابھی تک ٹیرف ادا نہیں کیے، اس لیے انہیں نقصان نہیں پہنچا، اور صرف کانگریس ہی صدر کی قومی ایمرجنسی کو چیلنج کر سکتی ہے۔

عدالت کے فیصلے سے صدر ٹرمپ کی ٹیرف پالیسی کو شدید دھچکا لگا ہے، اور اگر یہ فیصلہ برقرار رہتا ہے تو ان کے معاشی اہداف کے حصول میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔

Comments

Comments are closed.