ووٹنگ کے بعد فلسطین پہلی بار عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) میں پرچم لہرائے گا
- پاکستان، چین، سعودی عرب اور دیگر ممالک کی جانب سے جنیوا میں عالمی ادارے کے سالانہ اجلاس میں پیش کی گئی قرارداد 95 ووٹوں سے منظور
فلسطینی وفد نے پیر کے روز ایک علامتی کامیابی حاصل کرتے ہوئے عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) میں اپنا پرچم لہرانے کا حق حاصل کر لیا۔ فلسطینی مندوب کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت سے اقوام متحدہ اور عالمی سطح پر مزید شناخت کی راہیں ہموار ہوں گی۔
یہ تجویز چین، پاکستان، سعودی عرب اور دیگر ممالک کی جانب سے عالمی ادارے کے سالانہ اجلاس میں پیش کی گئی، جسے 95 ووٹوں کے ساتھ منظور کیا گیا، جب کہ صرف چار ممالک، اسرائیل، ہنگری، چیک جمہوریہ اور جرمنی، نے اس کی مخالفت کی اور 27 ممالک نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔
یہ پیش رفت اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں فلسطین کی رکنیت کی گزشتہ سال کامیاب کوشش کے بعد سامنے آئی ہے اور ایسے وقت میں ہوئی ہے جب اس بات کے اشارے مل رہے ہیں کہ فرانس ممکنہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کر سکتا ہے۔
لبنان کی مندوب رانا الخوری نے غالباً غزہ میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جاری تباہ کن جنگ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس ووٹ کا نتیجہ دلیر فلسطینی عوام کے لیے امید کی ایک ہلکی سی کرن ہے، جن کے مصائب ناقابلِ برداشت حد تک پہنچ چکے ہیں۔
اسرائیل نے ڈبلیو ایچ او میں اس قرارداد کی مخالفت کی اور ووٹنگ کا مطالبہ کیا۔ اس کا قریبی اتحادی، امریکہ، جو عالمی ادارۂ صحت سے علیحدگی کا ارادہ رکھتا ہے، ووٹنگ میں شریک نہیں ہوا۔
اگرچہ دنیا کے تقریباً 150 ممالک فلسطینی ریاست کو تسلیم کر چکے ہیں، تاہم بیشتر بڑی مغربی اور دیگر عالمی طاقتوں، جن میں امریکہ، برطانیہ، فرانس، جرمنی اور جاپان شامل ہیں، نے ابھی تک اسے تسلیم نہیں کیا ہے۔
اس قرارداد کے حق میں فرانس اور جاپان نے ووٹ دیا جبکہ برطانیہ نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔
جنیوا میں اقوام متحدہ میں فلسطینی سفیر ابراہیم خریشی نے خبر رساں ایجنسی روئٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک علامتی قدم ہے لیکن اس بات کا اشارہ بھی ہے کہ ہم بین الاقوامی برادری کا حصہ ہیں، جو صحت سے متعلق ضروریات میں ہماری مدد کر سکتی ہے۔ مجھے امید ہے کہ ہم جلد ہی ڈبلیو ایچ او اور اقوام متحدہ کے تمام فورمز کے مکمل رکن بن جائیں گے۔
فلسطینی عوام 1967 کی مشرق وسطیٰ کی جنگ میں اسرائیل کے قبضے میں جانے والے علاقوں میں ایک خودمختار ریاست کے قیام کے خواہاں ہیں۔
فلسطین کو عالمی ادارۂ صحت میں مبصر ریاست کا درجہ حاصل ہے، جبکہ ڈبلیو ایچ او خود بھی ایک اہم تبدیلی کے مرحلے سے گزر رہا ہے، کیونکہ وہ اپنے سب سے بڑے عطیہ دہندہ ، امریکہ، کے بغیر مستقبل کی راہ تلاش کر رہا ہے۔
گزشتہ ہفتے فلسطین کو عالمی ادارۂ صحت کے بین الاقوامی صحت ضوابط کے تحت اطلاعات موصول کرنے کا حق بھی حاصل ہو گیا، جو وباؤں کی نگرانی سے متعلق ایک عالمی نظام ہے۔
























Comments
Comments are closed.