پاکستان ٹیکسٹائل کونسل (پی ٹی سی) کا کہنا ہے کہ اگر مناسب اور سازگار ماحول فراہم کیا جائے تو یہ صنعت فوری طور پر وفاقی حکومت کے وژن اور پالیسیوں کے مطابق سالانہ 3 سے 4 ارب ڈالر کی برآمدات میں نمایاں اضافہ کرسکتی ہے۔
ان خیالات کا اظہار پاکستان ٹیکسٹائل کونسل (پی ٹی سی) کے چیئرمین فواد انور نے وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان سے ملاقات کے دوران کیا۔
وزارت تجارت کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق ٹیکسٹائل کونسل کے وفد میں نوینہ گروپ کے چیئرمین آصف ٹاٹا اور سی ای او محمد ایچ. شفقت بھی شامل تھے۔
میٹنگ میں ٹیکس و محصولات کی اصلاحات، توانائی کی مناسب قیمتوں کا تعین، ماحولیاتی سرمایہ کاری کا فروغ ، ٹیکسٹائل و ملبوسات کے شعبے کی مسابقت اور پائیداری اور تیز رفتار ترقی کے لیے ضروری پالیسی اقدامات پر بھرپور غور و خوض کیا گیا۔
اجلاس کے دوران وزیرِ تجارت نے وفد کو وفاقی بجٹ میں برآمدی شعبوں کی بھرپور حمایت کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ ہم علاقائی محصولات میں مساوات کیلئے بھرپور اقدامات کر رہے ہیں تاکہ برآمدات کو نئی بلندیوں تک پہنچایا جا سکے۔
وفاقی وزیر نے بتایا کہ وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کی سربراہی میں ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو محصولات کی اصلاح کے لیے ایک مضبوط اور پائیدار فریم ورک تیار کررہی ہے تاکہ تجارتی ماحول کو مزید خوشگوار اور مسابقتی بنایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں حکمتِ عملی کے ساتھ توازن قائم کرنا ہوگا—کمی وقت کے ساتھ ممکن ہے، مگر حکومت صنعتی ترقی کو فروغ دینے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھانے کے لیے پُرعزم ہے۔
مخصوص امور جیسے کہ علاقائی سطح پر مسابقتی توانائی کے نرخ، ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ فنڈ کا مؤثر استعمال، اور حکومتی معاونت اسکیموں کے تحت دعووں کی فوری منظوری پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
اس موقع پرپی ٹی سی نے بین الاقوامی پائیداری کے معیارات پورے کرنے اور صنعتی شعبے میں کاربن کے اخراج کو کم کرنے کی کوششوں کو تیز کرنے کے لیے گرین کریڈٹ اسکیمز متعارف کرانے کی بھی سفارش کی ہے۔
وفد نے زور دے کر کہا کہ صنعتی شعبہ تیزی سے شمسی، بایوماس اور ہوا جیسی متبادل اور قابل تجدید توانائی کی جانب منتقلی کررہا ہے اور اس مثبت رفتار کو قائم رکھنے میں حکومت کی فعال حمایت نہایت اہمیت رکھتی ہے۔
جام کمال نے حکومتی عزم کو دہراتے ہوئے کہا کہ اقتصادی پالیسی کو برآمد کنندگان کی ضروریات کے عین مطابق ترتیب دیا جائے گا اور اصلاحات کی اشد ضرورت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے بھرپور اعتماد کے ساتھ کہا کہ سرکاری صنعت کو بڑھنے دیں، سرمایہ کاری کی راہیں ہموار کریں اور صنعتی ترقی کو فروغ دیں—یہی وہ راستہ ہے جس سے معیشت فروغ پاتی ہے۔






















Comments
Comments are closed.