ممتاز ماہر معیشت کا این ایف سی ایوارڈ کو سیاسی اثرات سے پاک کرنے کا مطالبہ، نیا فارمولا تجویز
معروف ماہر اقتصادیات ڈاکٹر اشفاق حسن خان نے کہا ہے کہ حکومتِ پاکستان کو نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ کو سیاست سے پاک کرنا چاہیے اور اس کے لیے سیاسی شخصیات کے بجائے ٹیکنوکریٹس کا تقرر کیا جائے جبکہ تقسیم کے فارمولے پر بھی نظرثانی کی جانی چاہیئے۔
معروف ماہر اقتصادیات نے ”این ایف سی ایوارڈ اور آبادی: کیا اس نے پاکستان کی آبادی کو متاثر کیا ہے؟“ کے عنوان سے اپنی رپورٹ میں یہ سفارشات دی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق فی الحال پاکستان کے صدر آئین کے آرٹیکل 180 کے تحت پانچ پانچ سال کی مدت کے لیے فنانس کمیشن قائم کرتے ہیں۔ صدر چاہیں تو کمیشن میں غیر سیاسی شخصیات کو بھی شامل کر سکتے ہیں۔
تجویز کردہ کمیشن کے ساتھ ایک سیکرٹریٹ ہوگا جس میں ماہر اور انتظامی عملہ ہوگا جو کمیشن کے سربراہ اور ارکان کی مدد کرے گا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جب کمیشن صدر کی طرف سے قائم ہو جائے گا تو حکومت کمیشن کو اس کے آغاز میں حکومتی ترجیحات کی بنیاد پر کام کرنے کے ضوابط یعنی ٹرمز آف ریفرنس فراہم کرسکتی ہے۔
مزید برآں کمیشن کو وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان اور صوبوں کے باہمی وسائل کی تقسیم کے پیرامیٹرز اور ان کے وزن تبدیل کرنے کا اختیار حاصل ہوگا تاکہ وہ حکومت کی جانب سے فراہم کردہ کے مطابق اپنے کام مکمل کر سکے۔
ڈاکٹر اشفاق کی رپورٹ موجودہ این ایف سی کے نظام میں کئی خامیوں کو اجاگر کرتی ہے۔ اس میں آبادی کو وسائل کی تقسیم کے واحد معیار کے طور پر اپنائے جانے کے عمل کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ 1974 سے 2009 تک وسائل کی تقسیم کے لیے صرف آبادی کو معیار کے طور پر استعمال کیا گیا۔ تاہم 2010 کے ساتویں این ایف سی ایوارڈ میں متعدد معیار متعارف کروائے گئے جن میں غربت/پس ماندگی، آمدنی کا حصول اور انورس پاپولیشن ڈینسیٹی شامل ہیں لیکن اس کے باوجود آبادی کو 82 فیصد کے ساتھ غالب معیار ہی رکھا گیا۔
رپورٹ میں تجویز دی گئی ہے کہ آبادی کو کل فیصلہ سازی میں 25 فیصد اہمیت دی جائے جس میں ہر صوبے کی 1998 کی مردم شماری کی آبادی کو 15 فیصد اور 2023 کی مردم شماری کی آبادی کو 10 فیصد حصہ دیا جائے۔
ڈاکٹر اشفاق نے تجویز دی کہ این ایف سی ایوارڈ میں آمدنی کے فرق کو 30 فیصد اہمیت دی جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر کسی صوبے کی آمدنی سب سے امیر صوبے سے زیادہ کم ہوگی، تو اسے زیادہ وسائل دیے جائیں گے تاکہ اس فرق کو کم کیا جا سکے




















Comments
Comments are closed.