پاکستان نے تمام اہداف پورے کیے، فنڈ کی ریلیز کیلئے بورڈ کا اتفاق رائے حاصل کیا، آئی ایم ایف
- آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان کو دی گئی رقوم صرف اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ذخائر کے لیے مختص ہیں اور ان پر سخت حفاظتی شرائط اور اہداف لاگو ہوتے ہیں۔
عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان کے معاشی اصلاحاتی اقدامات پر اعتماد کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے ایگزیکٹو بورڈ نے فنڈنگ کی منظوری اس لیے دی کیونکہ پاکستان نے توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) پروگرام کے تحت تمام اہداف پورے کیے ہیں۔
جمعرات کے روز صحافیوں سے بات کرتے ہوئے، آئی ایم ایف کی ترجمان جولی کوزیک نے وضاحت کی کہ آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان کو دی گئی رقوم صرف اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ذخائر کے لیے مختص ہیں اور ان پر سخت حفاظتی شرائط اور اہداف لاگو ہوتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ ہمارے پروگرامز کا معمول کا طریقہ کار ہے کہ ایگزیکٹو بورڈ وقتاً فوقتاً قرض پروگراموں کا جائزہ لیتا ہے تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ پروگرام درست سمت میں جا رہا ہے یا نہیں، اہداف پورے ہوئے ہیں یا نہیں، اور اگر ضروری ہو تو پالیسی میں تبدیلیاں تجویز کی جا سکیں۔ پاکستان کے معاملے میں بورڈ نے پایا کہ پاکستان نے تمام اہداف حاصل کیے ہیں اور اصلاحات میں بھی پیش رفت کی ہے، اسی لیے پروگرام کی منظوری دی گئی۔
ترجمان سے بھارت کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کی تعیناتی اور حالیہ پاک بھارت کشیدگی سے متعلق سوالات بھی کیے گئے۔
اس پر کوزیک نے جواب دیا کہ آئی ایم ایف میں ایگزیکٹو ڈائریکٹر کی تعیناتی متعلقہ رکن ملک کا اختیار ہے، یہ ہمارا کا معاملہ نہیں۔
حالیہ پاک بھارت کشیدگی پر انہوں نے انسانی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا، ہم پرامن حل کی امید کرتے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کے ساتھ جاری پروگرام کے تحت پہلی نظرِ ثانی مارچ 2025 میں طے پائی، جس پر 25 مارچ کو اسٹاف لیول معاہدہ ہوا، اور 9 مئی کو ایگزیکٹو بورڈ نے اس معاہدے کی منظوری دے دی، جس کے بعد فنڈز جاری کیے گئے۔
آئی ایم ایف کے بورڈ کے فیصلوں کے طریقہ کار پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بورڈ کے فیصلے عمومی طور پر اتفاق رائے سے ہوتے ہیں، اور ووٹوں کی تفصیل شائع نہیں کی جاتی۔ پاکستان کے معاملے میں بھی یہی طریقہ کار اپنایا گیا۔
انہوں نے تین اہم نکات پر زور دیا:
1 . آئی ایم ایف کی رقوم صرف بیلنس آف پیمنٹ کے مسائل کے حل کے لیے دی جاتی ہیں، نہ کہ بجٹ خسارے کے لیے؛ 2. پاکستان کو ای ایف ایف کے تحت دی جانے والی تمام اقساط صرف اسٹیٹ بینک کے ذخائر کے لیے مختص ہیں، یہ حکومت کے بجٹ میں شامل نہیں ہوتیں؛ 3. پروگرام میں بین الاقوامی ذخائر کے اہداف، اور مرکزی بینک سے حکومت کو قرض نہ دینے جیسی سخت شرائط شامل ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ پروگرام میں مالیاتی نظم و نسق بہتر بنانے سے متعلق بڑے پیمانے پر اصلاحاتی شرائط بھی موجود ہیں، اور ان شرائط سے انحراف آئندہ جائزوں کو متاثر کر سکتا ہے۔




















Comments
Comments are closed.