وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (او آئی سی سی آئی) کے صدر کے یوسف حسین کی قیادت میں وفد نے ملاقات کی ہے۔
وزارتِ خزانہ میں ہونے والی اس ملاقات میں او آئی سی سی آئی کے بزنس کانفیڈنس انڈیکس (بی سی آئی) سروے – ویو 27 کے تازہ ترین نتائج پر بات چیت کی گئی۔ یہ سروے مارچ اور اپریل 2025 کے دوران ملک بھر میں کیا گیا تھا۔
وفد نے سروے کی رپورٹ پیش کی جس میں ملک بھر میں کاروباری اعتماد میں نمایاں بہتری دکھائی گئی ہے۔
سروے کے مطابق، انڈیکس میں 16 پوائنٹس کا اضافہ ہوا ہے۔ گزشتہ ویو (اکتوبر-نومبر 2024) میں انڈیکس منفی 5 فیصد تھا جو اب مثبت 11 فیصد پر آ گیا ہے۔
وزارتِ خزانہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ یہ مثبت تبدیلی مختلف شعبوں میں نظر آئی اور اس کی بڑی وجوہات میں معاشی استحکام، مہنگائی میں کمی اور آئندہ مہینوں میں کاروباری حالات بہتر ہونے کی توقعات شامل ہیں۔
مینوفیکچرنگ (صنعتی) شعبے نے اس بہتری میں کلیدی کردار ادا کیا جہاں کاروباری اعتماد منفی 3 فیصد سے بڑھ کر مثبت 15 فیصد ہو گیا۔ ریٹیل اور ہول سیل (خوردہ و تھوک) شعبے دوسرے نمبر پر رہے جن میں گزشتہ سروے کے منفی 18 فیصد کے مقابلے میں اب مثبت 2 فیصد بہتری دیکھی گئی۔
دوسری جانب، سروسز (خدمات) کے شعبے نے بھی مسلسل بہتری دکھائی، جہاں کاروباری اعتماد 2 فیصد سے بڑھ کر 10 فیصد مثبت ہو گیا۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کاروباری رجحان میں اس بہتری کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے ملک کی معیشت میں استحکام کی علامت قرار دیا۔
انہوں نے سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول قائم رکھنے کی اہمیت کو تسلیم کیا اور حکومت کے اس عزم کا اعادہ کیا کہ نجی شعبے کی ترقی کو فروغ دینا اور طویل مدتی معاشی استحکام یقینی بنانا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ کاروباری اعتماد میں بہتری وسیع تر اصلاحاتی کوششوں اور حکومت و معاشی شراکت داروں کے درمیان باہمی تعاون کا مظہر ہے۔
دریں اثنا او آئی سی سی کے صدر نے کہا کہ پچھلے دو سالوں کے دوران کاروباری اعتماد میں مسلسل بہتری آئی ہے اور حالیہ اضافہ اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان کا کاروباری شعبہ نہ صرف مضبوط ہے بلکہ مستقبل میں ترقی کے مواقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے پُرامید بھی ہے۔
اس کے جواب میں وزیر خزانہ نے یقین دہانی کرائی کہ حکومت اس مثبت رجحان کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری اقدامات جاری رکھے گی۔
وزارت خزانہ کے بیان کے مطابق پالیسی میں تسلسل، شفافیت اور اسٹیک ہولڈرز خصوصاً او آئی سی سی آئی کے ارکان سے فعال روابط، سرمایہ کاروں کے اعتماد اور معاشی استحکام کو مزید مضبوط بنانے کی حکومتی حکمت عملی کے بنیادی ستون ہیں۔




















Comments
Comments are closed.