اپریل 2025 کے دوران پاکستان میں بجلی کی پیداوار 10,513 گیگاواٹ رہی جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 22 فیصد سے زائد کا سالانہ اضافہ ہے جو اقتصادی سرگرمیوں میں بہتری کی نشاندہی کرتا ہے۔
اپریل 2024 میں بجلی کی پیداوار 8,639 گیگاواٹ رہی تھی۔
عارف حبیب لمیٹڈ (اے ایچ ایل) کے انرجی اینالسٹ راؤ عامر نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ بجلی کی پیداوار میں سالانہ 22 فیصد اضافہ گزشتہ 48 ماہ میں سب سے زیادہ ہے۔
راؤ عامر نے کہا کہ توانائی کی کھپت میں اضافے کی وجہ ٹیرف میں کمی کی وجہ سے بڑھتی ہوئی طلب ہے۔
ماہانہ بنیادوں پر بجلی کی پیداوار مارچ کے 8,409 گیگاواٹ کے مقابلے میں 25 فیصد اضافے کے ساتھ بڑھی ہے۔
اگرچہ پیداوار میں اضافہ ہوا مگر یہ پھر بھی ریفرنس لیول کے برابر رہی۔
تاہم مالی سال 25 کے پہلے 10 ماہ (جولائی تا اپریل) کے دوران بجلی کی پیداوار سالانہ بنیادوں پر 0.4 فیصد کمی کے ساتھ 100,661 گیگاواٹ رہی جو پچھلے سال کی اسی مدت کے 101,088 گیگاواٹ سے کم ہے۔
راؤ عامر کے مطابق موسم گرما میں طلب بڑھنے اور اقتصادی سرگرمیوں میں بہتری کی وجہ سے آئندہ مہینوں میں بجلی کی پیداوار میں اضافہ متوقع ہے۔
دوسری جانب پاکستان میں بجلی پیدا کرنے کی کل لاگت 8 فیصد بڑھ کر اپریل 2025 میں فی کلو واٹ 9.92 روپے تک پہنچ گئی جو گزشتہ سال کی اسی مدت میں 9.21 روپے تھی۔
لاگت میں اضافے کی وجہ آر ایل این جی کے ذریعے بجلی کی پیداواری قیمت میں 10 فیصد اضافہ ہے جو پچھلے سال کی اسی مدت میں 22.13 روپے فی کلو واٹ سے بڑھ کر 24.26 روپے فی کلو واٹ ہوگئی ہے۔
اپریل میں ہائیڈل بجلی پیداوار میں سب سے نمایاں ذریعہ ثابت ہوا اور مجموعی پیداوار میں اس کا حصہ 21.9 فیصد رہا، جس سے یہ سرِ فہرست بجلی کا ذریعہ بن گیا۔
اس کے بعد آر ایل این جی کا نمبر ہے جس کا حصہ مجموعی بجلی پیداوار میں 20.5 فیصد ہے جب کہ نیوکلیئر بجلی کا حصہ 17.9 فیصد رہا۔
قابل تجدید توانائیوں میں ہوا سے 4.6 فیصد اور سورج سے 1.1 فیصد بجلی پیدا ہوئی۔























Comments
Comments are closed.